جادوئی درخت آور لالچی لکڑھارا 39

جادوئی درخت آور لالچی لکڑھارا

بہت سال پہلے کی بات ہے۔ ایک گاوں میں دو بھائی رہتے تھے۔ دونوں بھائی لکڑیاں کاٹتے تھے۔ اور ان کو بیچ کر آپنی زندگی گزارتے تھے۔ بڑے بھائی کا رویہ آپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ ٹھیک نہیں تھا۔ وہ سارا کھانا خود کھا جاتا۔ آور چھوٹے بھائی کے کپڑے بھی لے لیتا۔ آور سارا کام بھی چھوٹے بھائی سے کرواتا۔

جادوئی درخت آور لالچی لکڑھارا، مزاحیہ کہانی

آگلی صبح بڑا بھائی جنگل میں لکڑیاں کاٹنے جاتا ہیں۔ وہ ایک درخت کے پاس پہنچ کے کہتا ہے، یہاں لکڑیاں آچھی نہیں تھوڑا آگے چلتا ہوں۔ چلتے چلتے وہ ایک جادوئی درخت کے پاس پہنچتا ہے۔ اور اس جادوئی درخت پر چڑھ کے شاخیں کاٹنے لگا۔ جادوئی درخت زور زور سے ہلنے لگا جس سے لکڑ ھارا درخت سے نیچے گر گیا۔ لکڑھارا دوبارہ سوچے بنا درخت کو کاٹنے لگا۔

جادوئی درخت نے لکڑھارے سے پیچھا چھوڑانے کےلیے اُسے بولا۔ اے لکڑھارے آگر آپ مجھے نہ کاٹو تو میں آپ کو سُونے کے آم دوں گا۔ لکڑھارے نے جب یہ سُنا تو فورا بولا ٹھیک ہے۔ اتنے میں لکڑھارے نے دیکھا تو اس کے سامنے کچھ سونے کے آم پڑھے تھے۔ سونے کے آم دیکھ کے لکڑھارا لالچ میں آ گیا ۔ آور بولا اتنے تھوڑے آم مجھے آپ کے سارے آم چاہیے نہیں تو میں آپ کو کاٹ دوں گا۔

جادوئی درخت آور لالچی لکڑھارا

جادوئی درخت یہ سُن کے غصے میں آگیا۔ آور بولا تُم یہ نہیں کر سکتے، میں ایک جادوئی درخت ہوں۔ آبھی تمھیں مجھے دھمکی دینے کی سزا بھگتنی پڑھے گی۔ آور جادوئی درخت نے آپنی جڑھیں پھیلا کے لکڑھارے کو جگڑ لیا۔ اور قید کر دیا، آبھی شام ہونے والی تھی۔ آب لکڑھارے کو آپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔ وہ رو کر جادوئی درخت سے کہنے لگا۔ جادوئی درخت مجھے جانے دو، مجھے سونے کے آم بھی نہیں چایئے۔ لیکن جادوئی درخت اس کی کوئی بات نیں سُن ریا تھا۔

اندھیرا چھانے والا تھا، لکڑھارے کا چھوٹا بھائی گھر میں پریشان تھا۔ کہ ابھی تک بڑا بھائی گھر کیوں نیں آیا۔ وہ آپنے بھائی کی تلاش میں جنگل کی طرف نکل پڑا۔ چلتے چلتے اسے آپنا بڑا بھائی نظر آیا، جو چڑھو میں قید تھا۔ وہ بھاگتا بھاگتا آپنے بھائی کے پاس پہنچا آور سارا ماجرا پوچھا۔ لکڑ ھارے نے سارا قصہ آپنے چھوٹے بھائی کو سُنایا آور روتے ہوئے، آپنے چھوٹے بھائی سے معافی مانگنے لگا۔ ارو بولا بھائی مجھے آپ بھی معاف کر دو میں نے آپ کے ساتھ بھی آچھا سلوک نھیں کیا۔ میں ہمیشہ آچھی چیز آپنے لیے پسند کرتا تھا۔ آگر میں یہاں سے بچ گیا، تو زندگی میں کبھی آپ کو دُکھ نیں دوں گا۔ جادوئی درخت دونوں بھائیوں کی باتیں سُن ریا تھا۔

جادوئی درخت آور لالچی لکڑھارا

اتنے میں لکڑھارے کے چھوٹے بھائی نے درخت سے کہا، اے جادوئی درخت میرے بھائی کو معاف کردوں۔ یہ لالچ میں آگیا تھا، ہم آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچایئں گے۔ جادوئی درخت اس کی بات سُن کے بولا ٹھیک ہے، لیکن میں ایک شرت پر آپ کے بڑے بھائی کو چھوڑوں گا۔ یہ مجھ سے وعدہ کریں کہ کبھی آپ کو تکلیف نہیں دے گا۔ لکڑھارا یہ سُن کے فورا بولا ٹھیک ہیں میں وعدہ کرتا ہوں۔ جادوئی درخت نے اسے چھوڑ دیا۔ اور آپنے سارے سونے کے آم ان دو بھائیوں کو دے دیئے۔ دونوں بھائی سونے کے آم لے کر خوشی خوشی آپنے گھر چلے گے۔

ہمیں اس کہانی سے کیا سبق ملتا ہے

مزاحیہ کہانی

ہمیں اس کہانی سے سبق ملتا ہے، کہ جو ملے اس پر اللی تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور آپنے پیاروں کے ساتھ محبت کے ساتھ رہنا چاہیے۔ اور جوچیز آپنے لیے پسند کریں، وہی دوسروں کےلیے بھی پسند کریں۔

یہ پوسٹ آپ کو کیسی لگی آپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں