پنجاب کی یونیورسٹیاں نشئیوں کی آماجگاہ بن گئیں، 130 کیسز کے ساتھ سرفہرست
وفاقی دارالحکومت بھی محفوظ نہ رہا، خیبرپختونخوا میں 7 واقعات رپورٹ، تعلیمی اداروں میں سپورٹنگ اسٹاف بھی ملوث پایا گیا
پشاور (نیوز رپورٹر) ملک بھر کی جامعات میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان اور استعمال کے حوالے سے سال 2025 کی چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس نے تعلیمی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال بھر میں مجموعی طور پر 365 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سب سے زیادہ افسوسناک صورتحال وفاقی اور پنجاب کی جامعات میں دیکھی گئی۔
اعداد و شمار کی تفصیل: رپورٹ کے مطابق وفاقی جامعات میں سب سے زیادہ 153 کیسز ریکارڈ کیے گئے، جبکہ صوبہ پنجاب کی جامعات 130 کیسز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔ اسی طرح سندھ میں بھی مختلف کیسز سامنے آئے، جبکہ اسلام آباد کی جامعات میں 10 کیسز اور دیگر تعلیمی اداروں میں بھی منشیات کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی جامعات میں مجموعی طور پر 7 کیسز رپورٹ ہوئے، جو دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ہونے کے باوجود ماہرین کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔
سپورٹنگ اسٹاف کا مکروہ کردار: رپورٹ میں یہ ہوشربا انکشاف بھی ہوا ہے کہ صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ بعض کیسز میں تعلیمی اداروں کا سپورٹنگ اسٹاف بھی منشیات کے استعمال اور اس مکروہ دھندے میں ملوث پایا گیا ہے۔ ماہرین نے اس صورتحال کو نسلِ نو کے مستقبل کے لیے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔
نگرانی سخت کرنے کی سفارش: رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد تعلیمی اداروں میں کڑی نگرانی اور روک تھام کے لیے فوری و سخت اقدامات کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ تعلیمی اداروں کے تقدس کو پامال ہونے سے بچایا جا سکے۔

