اہم ترین

اسلامی جمعیت طلبہ نے ”حقوق طلبہ تحریک“ کا آغاز کردیا

لاہور/اسلام آباد(ایجو کیشن رپورٹر)ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان...

 ایم ڈی کیٹ میں نمبرز بڑھوانے کا جھانسہ دینے والا جعل ساز گروہ گرفتار

مردان (سپیشل رپورٹر) وفاقی تحقیقاتی ادارے مردان نے ایک بڑی...

سندھ میں 838 نئے و ازسرنو تعمیر شدہ سکولوں میں داخلہ مہم شروع کرنے کا حکم

کراچی (سپیشل رپورٹر) حکومتِ سندھ نے صوبے میں تعلیمی انقلاب...

ایم ڈی کیٹ خیبرپختونخوا 38 ہزار سے زائد امیدواروں کا امتحان پرامن ماحول میں اختتام پذیر

پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر میڈیکل یونیورسٹی (KMU) کے زیرِ اہتمام...

خیبر پختونخوا میں 6 کیڈٹ کالج منصوبے تاخیر کا شکار، صرف سوات کالج فعال

خیبر پختونخوا میں 6 کیڈٹ کالج منصوبے تاخیر کا شکار، صرف سوات کالج فعال

صحت و تعلیم کو ترجیحی فنڈز دینے کی رولنگ، معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد، اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات

پشاور (نامہ نگار)

خیبر پختونخوا اسمبلی میں کیڈٹ کالجز کے منصوبوں میں تاخیر اور تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر ارکان نے حکومت سے وضاحت طلب کر لی۔ ایوان کو بتایا گیا کہ گزشتہ 10 برسوں میں سوات، سراروغہ، وانا، مردان، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کیڈٹ کالجز کی منظوری دی گئی تھی، تاہم ان 6 میں سے صرف سوات کا کیڈٹ کالج ہی فعال ہو سکا ہے۔

پینل آف چیئرمین محمد انور خان کی زیرِ صدارت اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی نے منصوبوں کی تکمیل اور لاگت میں اضافے کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے ابتدائی تعلیم رجب علی عباسی نے ایوان کو بتایا کہ مردان کیڈٹ کالج کو جنوری 2027 میں فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ڈی آئی خان میں فیزیبلٹی جاری ہے اور وانا کالج زیرِ تعمیر ہے۔ وانا کیڈٹ کالج کی لاگت 1 ارب 28 کروڑ سے بڑھ کر 2 ارب 9 کروڑ 60 لاکھ روپے ہو چکی ہے۔

احمد کنڈی نے سوال اٹھایا کہ لکی مروت کالج کی منظوری 2016 میں ہوئی تھی لیکن یہ منصوبہ تا حال مکمل نہیں ہو سکا۔ اگر یہ منصوبے حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں تو ان پر عملدرآمد میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟

اجلاس کے دوران کوہستان کے پٹن ڈگری کالج میں اسٹاف اور سہولیات کی کمی کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ ارکان نے نشاندہی کی کہ کالج میں تدریسی عملہ اور طلبہ کی کمی کے باعث صورتحال ابتر ہے، جس پر حکومت نے دور دراز علاقوں میں مقامی افراد کی کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی کا فیصلہ کیا ہے۔ مزید برآں ارکان نے 560 پرائمری اسکولوں میں کمروں کی عدم دستیابی اور ای ٹرانسفر نظام میں شفافیت کے مسائل اٹھائے، جس پر پینل آف چیئرمین نے صحت و تعلیم کو ترجیحی فنڈز دینے کی رولنگ دیتے ہوئے معاملے کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔