کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ کابینہ نے تعلیمی بورڈز میں چیئرمین، سیکریٹری، ناظم امتحانات اور آڈٹ افسر سمیت دیگر اہم عہدوں پر بھرتیوں کے لیے نئے قواعد و ضوابط کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ ان نئے قواعد کا مقصد تعلیمی بورڈز کے انتظامی ڈھانچے میں شفافیت لانا اور میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں یقینی بنانا ہے۔
تقرریوں کے لیے نیا طریقہ کار
نئے قواعد کے تحت گریڈ 17 اور اس سے اوپر کی تمام تقرریاں ایک اعلیٰ سطح کی “اپائنٹمنٹ اینڈ پروموشن کمیٹی” کے ذریعے کی جائیں گی۔ جبکہ گریڈ 16 اور اس سے کم کی اسامیوں کے لیے علیحدہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ ان تمام تقرریوں کی حتمی منظوری متعلقہ کنٹرولنگ اتھارٹی دے گی۔
اہم عہدوں کے لیے اہلیت اور عمر کی حد
جاری کردہ تفصیلات کے مطابق مختلف عہدوں کے لیے معیار درج ذیل ہے
- چیئرمین تعلیمی بورڈ (بی پی ایس 19/20): یہ تقرری اشتہار کے ذریعے تین سالہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر ہوگی۔ امیدوار کے پاس ماسٹرز ڈگری کے ساتھ 16 سالہ تعلیمی یا سرکاری شعبے میں 15 سالہ انتظامی تجربہ ہونا لازمی ہے۔ عمر کی بالائی حد 62 سال سے کم کر کے 60 سال کر دی گئی ہے۔
- سیکریٹری بورڈ (بی پی ایس 19): اس عہدے کے لیے 16 سالہ تعلیم اور کم از کم 12 سالہ انتظامی یا مالی امور کا تجربہ درکار ہوگا۔ عمر کی حد 35 سے 50 سال مقرر کی گئی ہے۔
- ناظم امتحانات (بی پی ایس 19): امیدوار کے پاس پبلک ایڈمنسٹریشن، مینجمنٹ سائنسز یا آئی ٹی میں ماسٹرز ڈگری اور 12 سالہ تجربہ ہونا ضروری ہے۔
- آڈٹ آفیسر (بی پی ایس 18): اسامی کے لیے ایم بی اے (فنانس)، ایم کام یا اے سی سی اے کے ساتھ 5 سالہ تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ عمر کی حد 50 سال تک ہوگی۔
ترقی اور براہِ راست بھرتی کا تناسب
نئے قوانین کے تحت کچھ عہدوں پر ترقی اور براہِ راست بھرتی کا تناسب بھی طے کیا گیا ہے
- سیکریٹری آفیسر (بی پی ایس 17): 50 فیصد اسامیاں براہِ راست بھرتی اور 50 فیصد ترقی کے ذریعے پُر کی جائیں گی۔ امیدوار کے لیے عمر کی حد 24 سے 32 سال ہوگی۔
- اسسٹنٹ سیکریٹری اور ریسرچ آفیسر: ان عہدوں پر بھی 50 فیصد براہِ راست بھرتی اور 50 فیصد ترقی کا فارمولا نافذ ہوگا۔
شفافیت اور گورننس
صوبائی کابینہ کو دی گئی بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ ماضی میں تعلیمی بورڈز کے سروس رولز صرف بورڈ آف گورنرز سے منظور کرائے جاتے تھے، جو قانونی تقاضوں کے منافی تھا۔ اب نئے قواعد محکمہ قانون اور ایس جی اے اینڈ سی ڈی کی مشاورت سے تیار کیے گئے ہیں تاکہ امتحانی نظام پر عوامی اعتماد بحال کیا جا سکے۔

