لاہور (ایجو کیشن رپورٹر )تعلیمی بورڈ لاہور میں کرپشن کاراج، سیکرٹری بورڈ کے ’کاغذی دوروں‘ نے سرکاری خزانے کو 25 لاکھ سے زائد کا ٹیکہ لگا دیا سیکرٹری سمیت الحاق کے لیے ہر تعلیمی وزٹ پر 8افراد کے جعلی بل ڈالے گیے ہیں حالانکہ صرف دو یا تین افراد پر مشتمل عملہ تعلیمی اداروں کا وزٹ کرتا رہا ہے تفصیلات کے مطابق
تعلیمی بورڈ لاہور میں بیوروکریٹ سیکرٹری کی کھلے عام اور دیدہ دلیری سے کی گئی کرپشن کا بڑا اسکینڈل بے نقاب ہو گیا ہے
ذرائع کے مطابق سیکرٹری تعلیمی بورڈ لاہور رضوان نذیرنے گزشتہ ایک سال کے دوران تعلیمی اداروں کا ایک بھی حقیقی دورہ کیے بغیر محض ’جعلی وزٹ بلز‘ کی بنیاد پر
سرکاری خزانے سے تقریباً 25 لاکھ روپے سے زائدکی خطیر رقم ڈکار لی ہے۔ تعلیمی اداروں کے الحاق (Affiliation) کے لیے ہر تعلیمی بورڈ میں ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جس میں چیئرمین اور سیکرٹری بورڈ سمیت کمیٹی کے دیگر ممبران کا موقع پر جا کر معائنہ کرنا لازمی ہوتا ہے تاکہ اداروں کے معیار اور سہولیات کو پرکھا جا سکے جس کے بعد انہیں بورڈ کیساتھ الحاق دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے
کہ سیکرٹری نے دفتر سے باہر نکلنے کی زحمت تک نہ کی ہے، مگر جب بات مراعات اور ٹی اے ڈی اے (TA/DA) کی آئی تو کاغذی کارروائی کے ذریعے لاکھوں روپے کے کلیمز پاس کروا لیے گئے ہیں ا ور یہ رقم افسران کی اصل تنخواہوں کے علاوہ ہے جو کہ خالصتاً ’جعلی وزٹ‘ کی مد میں نکلوائی گئی ہے افسوس ناک امر یہ ہے کہ
اس سنگین مالی کرپشن اور پیشہ ورانہ بددیانتی پر چیرمین تعلیمی بورڈ لاہورسمیت سیکرٹری ہائر ایجو کیشن کو بھی علم ہے
لیکن سب نے اس پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اردو تعلیم ڈاٹ کام کو موصول بلز کے مطابق ہر تعلیمی ادارے کے وزٹ پر سیکرٹری سمیت 8افسران و ملازمین کا لاو لشکر ظاہر کیا گیا ہے جن میں سیکرٹری ، اسسٹنٹ سیکرٹری ( ریکیگنیشن ) سپرنٹنڈنٹ الحاق برانچ ، سینئر کلرک الحاق برانچ ،تین ڈرائیور اور ایک سیکیورٹی گارڈ شامل ہیں اس حوالے سے مختلف تعلیمی اداروں اور پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں سے اردو تعلیم ڈاٹ کام نے تصدیق بھی کی ہے کہ تعلیمی اداروں کے وزٹ پر صرف 2 سے تین بورڈ ملازمین آتے ہیں ذرائع نے یہ دعوی کیا ہے کہ دو ڈرائیورز اور سیکیورٹی گارڈ کا جعلی بل بھی سیکرٹری خود وصول کر کے کھا رہا ہے تعلیمی حلقوں میں سیکرٹری تعلیمی بورڈ لاہور کی کھلے عام کرپشن اور اس پر اعلی افسران کی جانب سے خاموشی پرشدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ اساتذہ اور عوامی تنظیموں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ لاہور بورڈ کو ’کرپشن کی آماجگاہ‘ بننے سے بچایا جائے اور ان ’کاغذی وزٹ‘ کا فارنزک آڈٹ کروا کر ذمہ دار افسران کو نشانِ عبرت بنایا جائے
لاہور(سپیشل رپورٹر) سیکرٹری ہائر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ غلام فرید سے خبر کے حوالے سے انکا موقف جاننے کے لیے رابط کیا تو انہوں نے فون اٹینڈ نہ کیا جبکہ سپیشل سیکرٹری ہائر ایجو کیشن تجمل عباس رانا نے بھی فون اٹینڈ نہ کیا اور سیکرٹری تعلیمی بورڈ لاہور رضوان نذیر موقف دینے کی بجائے خبر رکوانے کے لیے سفارشیں کرواتے رہے ہیں

