اہم ترین

کل تمام تعلیمی ادارے اور راستے کھلے رہیں گے،ڈی سی راولپنڈی

راولپنڈی( سپیشل رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی...

پشاور بورڈ انٹرمیڈیٹ نتائج 2026، عائشہ بی بی نے 1134 نمبرز لے کر بورڈ ٹاپ کر لیا

پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن...

وزیر تعلیم نے سکول میں انگلش پڑھائی، طالبات کے ساتھ کرکٹ اور بیڈمنٹن کھیلی

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر) وزیر تعلیم رانا سکندر حیات ہفتہ...

مالاکنڈ بورڈ، انٹرمیڈیٹ امتحانات کے نتائج کا اعلان، دیا ایمان نے 1133 نمبرز کے ساتھ میدان مار لیا

مالاکنڈ ( نمائندہ خصوصی) بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن...

راولپنڈی کے 48 سرکاری سکول پولیس اہلکاروں کی رہائش کے لیے خالی کروا لیے گئے

راولپنڈی (کرائم رپورٹر) سیاسی جماعتوں کے متوقع احتجاج اور دھرنوں...

محکمہ تعلیم کی غفلت سے دہلی گورنمنٹ سکول کریم آباد سیل، 2,800 سے زائد طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

کراچی (سپیشل رپورٹر) محکمہ تعلیم سندھ کی عدم دلچسپی اور مجرمانہ غفلت کے باعث کراچی کے معروف اور تاریخی تعلیمی ادارے ‘دہلی گورنمنٹ اسکول کریم آباد’ کی عمارت کو عدالتی احکامات پر سیل کر کے باہر باقاعدہ بورڈ آویزاں کر دیا گیا ہے۔ اس اچانک اقدام سے اسکول میں زیرِ تعلیم 2,800 سے زائد غریب و متوسط طبقے کے طلبہ و طالبات کا تعلیمی سال اور مستقبل شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ عمارت اصل میں "دہلی اینگلو عربک کالج اینڈ اسکولز اولڈ بوائز ایسوسی ایشن” کی ملکیت تھی، جسے 1970ء کی دہائی میں قومیایا (نیشنلائز) گیا تھا۔ معاہدی کی رو سے محکمہ تعلیم سندھ کو عمارت کا ماہانہ کرایہ مالکان کو ادا کرنا تھا، تاہم طویل عرصے تک کرایوں کی عدم ادائیگی اور قانونی چارہ جوئی میں غفلت کے بعد مالکان نے عدالت سے رجوع کیا۔ طویل قانونی جنگ کے بعد عدالت نے عمارت کو ڈی نیشنلائز کرنے اور خالی کر کے سیل کرنے کا حکم جاری کیا۔

دہلی گورنمنٹ اسکول (پرائمری و سیکنڈری، بوائز اینڈ گرلز) شمار کراچی کے بہترین اور شاندار نتائج دینے والے سرکاری اداروں میں ہوتا ہے، جس کے طلبہ نے چند برس قبل بھی میٹرک بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔

واضح رہے کہ محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے لیز کی تجدید اور قانونی معاملے کو سنجیدگی سے نہ لینے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی عائشہ باوانی کالج اور اسلامیہ کالج کمپلیکس جیسے نامور ادارے اسی قسم کے تنازعات اور کرایوں کی عدم ادائیگی پر سیل ہو چکے ہیں۔ عوام اور تعلیمی حلقوں نے حکومتِ سندھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔