young girl urdu stories 560

نوجوان لڑکی کی دردناک کہانی

آج ایک کام کی وجہ سے گھر آتے ہوئے دیر ہو گی۔ رات کے تقریبن 2 بج رہے تھے۔ مجھے رستے میں ایک نوجوان لڑکی نظر آئی۔ جو کہ اکیلی ایک بینچ پر بیٹھی تھی۔ مجھے کچھ شک سا ہُوا، کہ ایک اکیلی لڑکی رات کے اس پہر یہاں کیا کر رہی ہے۔ میں نے گاڑی لڑکی کے نزدیک جا کر روک دی، اور لڑکی سے پوچھا آپ اتنی رات کو یہاں اکیلی کیا کر رہی ہوں۔ اس پر لڑکی کچھ نہ بولی، میں نے پھر پوچھا آپ یہاں کیا کر رہی ہو۔

بس میرا یہ پوچھنا تھا، کہ لڑکی زارو قطار رونے لگی۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہو۔ اب میری پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا، لڑکی روتے ہوئے بولی۔ کیا مجھے بنچ پر بیٹھنے کی قیمت بھی آپنے جسم سے چُکانی پڑے گی۔ لڑکی کی بات س میری پرشانی میں مزید اضافہ ہو گیا۔

میں نے لڑکی سے اسرار کرتے ہوئے کہا، بتاو تو سہی آخر ہو کیا آپ کے ساتھ۔ جس پر لڑکی نے بتایا کہ وہ سٹوڈنٹ ہیں، کچھ لڑکے انہیں بہت تنگ کرتے تھے۔ لڑکی نے بتایا کہ اس نے ان لڑکوں کی شکایت اپنے اساتذہ سے بھی کی۔ لیکن اس کے بعد وہ لڑکے اس کے دشمن بن گے۔ وہ اسے مزید پریشان کرنے لگے، اور اس کا گھر تک پیچھا کرتے۔

لڑکی نے بتایا کہ ان لڑکوں نے اس کی تصاویریں بنانا شروع کر دی۔ ان لڑکوں نے تصویروں کو کمپیوٹر میں ایڈٹ کر کے مجھے بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ اس بات کا علم میرے والدین کو بھی ہو گیا۔ میرے گھر والے مجھ پر شک کرنے لگے۔ اخر گھر والوں نے میرا کالج جانا بند کردیا۔ میری گھر میں عزت ختم ہو چکی تھی۔ سب گھر والے مجھے نفرت کی نظر سے دیکھنے لگے۔ میں نے کافی انتظار کیا کہ شائد مجھے دوبارہ گھر میں پہلے جیسا مقام مل جائے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا، مجھ سے گھر والوں کا یہ رویہ برداشت نہ ہوا، میں نے گھر سے بھاگنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ کیونکہ مجھے یقین تھا کہ اب مجھے گھر میں پہلے کی طرح نہیں دیکھتے تھے۔ میں گھر سے بھاگ گی۔

اسی دوران مجھے ایک عورت ملی جو بڑی محبت سے آپنے گھر لے گی۔ اگلے دن تک میرا غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ میں نے گھر جانے کا صیصلہ کیا، مجھے محسوس ہوا کہ میرا گھر سے بھاگنے والا فیصلہ غلط تھا۔ جب میں گھر جانے لگی تو اس عورت نے مجھے گھر جانے سے روک لیا۔ اور ایک کمرے میں بند کر دیا۔ اور ایک شخص کو میرے کمرے میں بھیج دیا۔ اس شخص نے میری ضد توڑنے کےلیے میرے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ اس کے بعد میں اندر سے بلکل ٹوٹ گی۔ اس دوران اس عورت نے میری انکھیں باندھ کر کسی نا معلوم جگہ بھیج دیا۔ جہاں مجھے روز بیچا جاتا، اور میرے ساتھ زیادتی کی جاتی اور ریپ کیا جاتا۔

آخر کار میں وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گی۔ اور اب تھک کے یہاں بیٹھ گی۔ لڑکی نے مجھے کہا کہ آپ مجھے بتائیں اس میں قصور کس کا ہیں۔ ان لڑکوں کا جو مجھے تنگ کرتے، میرے گھر والوں کا جنھوں نے مجھے حوصلہ دینے کی بجاے نفرت کی یا پھر اس عورت کا جس نے میرے ساتھ زیادتی کروای۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا گھر والے میرا ساتھ دیتے ۔ ان لڑکوں کے گھر والوں کو بتاتے تاکہ یہ نوبت نہ آتی گھر سے بھاگنے کی۔ کیا میری طرح اور بھی لڑکیاں اسی مسلے کا شکار ہوتی ہیں۔

مجھے لڑکی کی بات سن کے بہت دکھ ہوا۔ میں نے صبح ہی 5 لیڈی کانسٹیبل اور پولیس کا عملہ ساتھ لے کر اس عورت کے گھر چھاپا مارا۔ جہاں سے اس لڑکی جیسی کئی لڑکیاں زلت کی زندگی گزار رہی تھی۔ ان تمام لڑکیوں کو ان کے گھر پہنچایا گیا۔ اس کے بعد ان لڑکوں کے گھر چھاپا مار کے، ان کے کمپیوٹر سے بہت سی لڑکیوں کی تصویریں ڈلیٹ کی۔ جنہیں وہ بلیک میل کر رہے تھے، اج وہ لڑکے جیل میں آپنے کیے کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اس لڑکی کو اس کے گھر چھوڑااور اس کے گھر والوں کو سمجھایا ۔ اب اس لڑکی کی شادی ہو گی ہیں اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہی ہیں۔

پیارے دوستوں، بھائیوں اور بہنوں آپ نے اس مجبور لڑکی کی کہانی سنی۔ کیا یہ سب ہمارے محلے گلیوں میں بھی یہی ہو رہا ہیں۔ کیا ہمارے محلے میں اوارہ لڑکے بیٹھتے ہیں اور لڑکیوں کو چھیڑتے ہیں۔ کیا آپ انہیں یہ کرنے سے روکتے ہیں کہ نہیں۔

یہ پوسٹ آپ کو کیسی لگی آپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں