اہم ترین

ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ امتحان کا انعقاد مکمل، امیدواروں کو ‘Answer Key’ کا انتظار

کراچی (سپیشل رپورٹر) کراچی سمیت ملک بھر میں میڈیکل اینڈ...

اسلامی جمعیت طلبہ نے ”حقوق طلبہ تحریک“ کا آغاز کردیا

لاہور/اسلام آباد(ایجو کیشن رپورٹر)ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان...

 ایم ڈی کیٹ میں نمبرز بڑھوانے کا جھانسہ دینے والا جعل ساز گروہ گرفتار

مردان (سپیشل رپورٹر) وفاقی تحقیقاتی ادارے مردان نے ایک بڑی...

سندھ میں 838 نئے و ازسرنو تعمیر شدہ سکولوں میں داخلہ مہم شروع کرنے کا حکم

کراچی (سپیشل رپورٹر) حکومتِ سندھ نے صوبے میں تعلیمی انقلاب...

ایم ڈی کیٹ خیبرپختونخوا 38 ہزار سے زائد امیدواروں کا امتحان پرامن ماحول میں اختتام پذیر

پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر میڈیکل یونیورسٹی (KMU) کے زیرِ اہتمام...

پنجاب یونیورسٹی ٹاون تھری زمین پر سپریم کورٹ کا حکم امتناعی

پنجاب یونیورسٹی ٹاؤن تھری زمین کیس: سپریم کورٹ کا 60 کروڑ کے معاہدے پر ‘اسٹیٹس کو’ کا حکم

لاہور (نمائندہ خصوصی): سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب یونیورسٹی ٹاؤن تھری کی زمین سے متعلق ایک اہم سول پٹیشن کی سماعت کے دوران 60 کروڑ روپے مالیت کے معاہدہ بیع پر فریقین کو ‘اسٹیٹس کو’ (حالتِ جوں کی توں) برقرار رکھنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت تک حکمِ امتناعی برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

کیس کی سماعت اور عدالتی ریمارکس: چیف جسٹس یحیٰی آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے طاہر عباس بنام اے اینڈ ڈی پلانرز (A&D Planners) کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل محمد احمد قیوم نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ 2 مارچ 2020 کے معاہدے کے تحت 60 کروڑ روپے کی مکمل ادائیگی کی جا چکی ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ یہ معاہدہ قانونی طور پر مکمل عمل درآمد کا متقاضی ہے، لہٰذا زمین درخواست گزار کے نام منتقل کی جائے۔

درخواست گزار طاہر عباس وغیرہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی ٹاؤن تھری کی کمیٹی نے ان سے 60 کروڑ روپے وصول کر کے زمین دینے کا وعدہ کیا تھا، تاہم جب وہ زمین اپنے نام کروانے پہنچے تو معلوم ہوا کہ پٹواری کے پاس زمین پر پہلے سے ہی ‘اسٹے آرڈر’ موجود ہے۔ وکیل نے الزام عائد کیا کہ اے اینڈ ڈی پلانرز، جن کے پاس ٹاؤن تھری کی زمین کا کنٹرول ہے، نے دھوکے سے رقم وصول کی لیکن زمین منتقل نہیں کی۔

یاد رہے کہ درخواست گزار اس سے قبل ریلیف کے لیے سول عدالت اور بعد ازاں ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر چکے تھے، تاہم وہاں سے کیس خارج ہونے کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد اب اس معاملے پر حکمِ امتناعی جاری کرتے ہوئے فریقین کو موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا پابند کر دیا ہے۔