اہم ترین

طلبہ حقوق کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کا رحیم یار خان سے لاہور ‘روڈ کارواں’ کا اعلان

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) اسلامی جمعیت طلبہ تنظیم نے 9 نومبر...

کراچی, فرسٹ ایئر سالانہ نتائج 2026 کا نئے گریڈنگ سسٹم کے تحت اعلان

کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین...

کراچی یونیورسٹی,مستحق طلبہ اور فیکلٹی آف آرٹس کے لیے 5 کروڑ کے اینڈومنٹ فنڈ کا قیام

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر...

طلبہ میں سائنسی سوچ کےفروغ کیلئے سندھ میں ساڑھے 8 ہزار سائنس اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) سندھ میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور...

اسلام آباد ہائی کورٹ، نجی اسکولوں کی 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم دینے کے خلاف درخواست، ریگولیٹری اتھارٹی کو نوٹس جاری

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے 10 فیصد غریب و مستحق طلبہ کو مفت تعلیم دینے کے قانون کے خلاف دائر درخواست پر نجی تعلیمی اداروں کی ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 3 اگست تک جواب طلب کر لیا ہے۔

کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ریگولیٹری اتھارٹی نے 10 جولائی سے پہلے نجی اسکولوں سے 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم دینے کی تفصیلات مانگی ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ حکومت نجی اسکولوں کو کوئی فنڈز یا کوٹہ فراہم نہیں کر رہی، لہٰذا مفت تعلیم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، نجی اداروں کی نہیں۔

سماعت کے موقع پر صدر پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن بھی عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ اگر اس طرح کے قوانین زبردستی لاگو کیے گئے تو پرائیویٹ اسکولز بند ہونا شروع ہو جائیں گے۔

نجی اسکولوں کے اس مؤقف پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے

"اگر آپ ایک کلاس میں 18 بچوں کو پڑھا سکتے ہیں تو مزید دو بچوں کو پڑھانے میں کیا مسئلہ ہے؟ آپ نے بچوں کو پڑھانا ہے، اس طرح کی باتیں نہ کریں۔ اگر آپ کے پاس جگہ نہیں ہے تو اسکول بند کر دیں۔”

عدالت عالیہ نے نجی اسکولوں کی جانب سے مفت تعلیم دینے کی مخالفت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی سماعت 3 اگست تک ملتوی کر دی اور متعلقہ حکام سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔