اہم ترین

جی سی یونیورسٹی میں پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پرتقریب

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) جی سی یونیورسٹی لاپور میں چین...

سرکاری سکولوں کو نان سیلری بجٹ کی پہلی قسط نہ مل سکی

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) پہلی سہ ماہی گزر گئی تا...

ہائر ایجوکیشن کمیشن کا ریسرچ ایوارڈ مقابلہ کا اعلان، درخواستیں طلب

لاہور (سپیشل رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے "پاکستان...

کالجز میں مالی بے ضابطگیوں کی شکایات، آڈٹ شروع، ٹیمیں تشکیل

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) سرکاری کالجز میں مالی بے ضابطگیوں...

علامہ اقبال میڈیکل کالج کا طالب علم ڈوب کر جاں بحق

لاہور (سپیشل رپورٹر) علامہ اقبال میڈیکل کالج کے سوئمنگ...

بھارت، امتحانی بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف پونے میں ہزاروں ایم پی ایس سی امیدواروں کا سڑکوں پر شدید احتجاج

پونے (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست مہاراشٹر کے سرکاری ادارے ‘مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن کے ہزاروں امیدواروں نے امتحانی بے ضابطگیوں اور مبینہ پیپر لیک کے خلاف پونے شہر میں ایک بڑا احتجاجی مارچ نکالا۔ اونکاریشور مندر چوک سے ضلع کلکٹریٹ دفتر تک نکالے گئے اس مارچ کے دوران مظاہرین نے ایم پی ایس سی کے چیئرمین اور سیکرٹری کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کے رکن اسمبلی روہت پوار اور کانگریس کے رکن اسمبلی وشوجیت کدم نے مظاہرے میں شرکت کر کے امیدواروں کے مطالبات کی حمایت کی اور حکومت سے تمام مطالبے فوری پورے کرنے کا زور دیا اور کہا کہ یہ کسی کی سیاسی تحریک نہیں بلکہ طلبا اور امیدواروں کی اپنی تحریک ہے۔

استعفیٰ اور نئی تقرریاں: ایم پی ایس سی کے چیئرمین اور سیکرٹری کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر فوری طور پر صاف شہرت رکھنے والے افسران کی تقرری کی جائے۔

آزادانہ تحقیقات اور فرانزک آڈٹ: کرائم برانچ کی جانب سے کمیشن کو دی گئی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کو عام کیا جائے، ملزمان اور منتخب امیدواروں کے کال ڈیٹیل ریکارڈ  کی جانچ کی جائے اور تمام مشتبہ امتحانی نتائج کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔

شفافیت کی ضمانت: 25 اکتوبر 2026 کو ہونے والے گروپ-سی (کلرک اور ٹائپسٹ) کے ابتدائی امتحان کو شفاف انداز میں منعقد کرنے کی مکمل ضمانت دی جائے اور اسٹینوگرافر کے عہدے کو دوبارہ بحال کیا جائے۔

حکومتی وضاحت اور چھان بین: ڈرگ انسپکٹر (گروپ بی) امتحان سے متعلق اعتراضات پر حکومت 8 دنوں میں وضاحت پیش کرے، جبکہ اسٹیٹ سروس مینز اور ایگریکلچر سروس امتحانات کے سوالات میں مبینہ کوتاہیوں کی بھی تحقیقات کی جائیں۔

مظاہرین نے واضح کیا کہ جب تک بھرتی کے عمل میں مکمل شفافیت اور ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی یقینی نہیں بنائی جاتی، ان کا احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا۔