اہم ترین

جنوبی وزیرستان لوئیر میں کرفیو کیخلاف طلبہ کا مظاہرہ، نرمی کا مطالبہ

پشاور (سپیشل رپورٹر) جنوبی وزیرستان لوئر میں روزانہ کی...

گورنر ہاوس کراچی میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب

کراچی (خبر نگار / این این آئی) وزیراعظم یوتھ...

پاکپتن, اینٹی کرپشن کی ریڈ، 40 ہزار رشوت لیتے محکمہ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

پاکپتن(نامہ نگار) اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے محکمہ...

اردو یونیورسٹی کی زبوں حالی، ایچ ای سی کی اعلیٰ کمیٹی کی موجودہ قیادت تبدیل کرنے کی سفارش

 اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن  کی اعلیٰ سطح...

تعلیمی بورڈ میر پور سندھ کرپشن اسکینڈل, سرکاری اسکولوں کے سربراہان نے الزامات مسترد کر دیے

تعلیمی بورڈ کرپشن اسکینڈل: سرکاری اسکولوں کے سربراہان نے الزامات مسترد کر دیے، مشترکہ پریس کانفرنس

میرپورخاص (بیورو رپورٹ) تعلیمی بورڈ میرپورخاص کے مبینہ میگا کرپشن اسکینڈل میں سرکاری اسکولوں کو ملوث کرنے کی کوششوں پر گورنمنٹ بوائز و گرلز ہائر سیکنڈری اسکولوں کے سربراہان نے پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے اداروں پر لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول بھان سنگھ آباد کے پرنسپل پروفیسر محمد آصف خان، گورنمنٹ کچہری ہائوس ہائر سیکنڈری اسکول کی پرنسپل نسرین اقبال، اور گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول بھان سنگھ آباد کی وائس پرنسپل فرح ناز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کے بعض عناصر سرکاری اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسکول سربراہان نے واضح کیا کہ سرکاری اسکولوں میں داخلوں اور امتحانات کا عمل مکمل طور پر شفاف ہوتا ہے، جبکہ مارک شیٹس اور سرٹیفکیٹس کا اجرا خالصتاً بورڈ کی ذمہ داری ہے جس سے اسکولوں کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ پرنسپلز کا کہنا تھا کہ اسکول صرف "لیونگ سرٹیفکیٹ” جاری کرنے کا اختیار رکھتے ہیں جبکہ اصل تعلیمی اسناد بورڈ ہی جاری کرتا ہے۔ پریس کانفرنس میں انکشاف کیا گیا کہ

جن طلبہ کے نام پر جعلی اسناد جاری ہوئیں، وہ کبھی ان اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہی نہیں رہے، جس کے تمام شواہد تفتیشی اداروں کو فراہم کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے اصل ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جائے اور سرکاری تعلیمی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی مہم بند کی جائے۔