جامعہ پشاور شدید مالی بحران کا شکار؛ رمضان المبارک میں بھی ملازمین تنخواہ اور پنشن سے محروم
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے فنڈز کے لیے صوبائی حکومت سے رابطے؛ ملازمین کا بحران کے مستقل حل کا مطالبہ
پشاور (نامہ نگار): جامعہ پشاور ایک بار پھر شدید مالی بحران کی لپیٹ میں آگئی ہے، جس کے باعث رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی سینکڑوں ملازمین اور پنشنرز اپنی تنخواہوں اور واجبات سے محروم ہیں۔ مارچ کے پہلے ہفتے کے اختتام کے باوجود تنخواہیں جاری نہ ہونے سے ملازمین شدید ذہنی تشویش اور گھریلو اخراجات پورے کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
بحران کی شدت اور انتظامیہ کا موقف

جامعہ پشاور کے ذرائع کے مطابق، ادارے کو ہر ماہ تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی میں مالی مشکلات کا سامنا رہتا ہے، تاہم رمضان المبارک میں اضافی اخراجات کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے اور جلد صوبائی حکومت سے فنڈز حاصل کرنے کی امید ہے تاکہ ملازمین کو تنخواہوں کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
ملازمین کے مطالبات
دوسری جانب، جامعہ کے ملازمین نے حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مالی بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کا مستقل حل نکالا جائے تاکہ انہیں ہر ماہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


