اہم ترین

دنیا بھر میں 2025 کے دوران سکولوں پر حملوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا، یونیسکو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو...

اورنگی ٹاؤن، نشیوں کی سریا نکالنے کی کوشش، سکول کی دیوار گرنے سے 5 افراد جاں بحق

کراچی (کرائم رپورٹر) روشنیوں کے شہر کراچی کے علاقے اورنگی...

ناقص نتائج کے حامل سکول سربراہان نوکریوں سے برخاست ہوں گے۔ وزیر تعلیم

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر) نہم دہم کے نتائج کی ذمہ...

سندھ اسمبلی کا تاریخی فیصلہ، کراچی کو ’فاطمیہ انٹرنیشنل یونیورسٹی‘ کا تحفہ، بل متفقہ طور پر منظور

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک نیا اور اہم باب رقم ہو گیا ہے۔ سندھ اسمبلی نے 11 ستمبر کے اجلاس میں ’دی فاطمیہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ایٹ کراچی بل 2026‘ (بل نمبر 23 مجریہ 2026) کو بلا مخالفت متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ سندھ کابینہ کی جانب سے جون 2026ء میں چارٹر کی منظوری کے بعد اس بل کو اسمبلی کے سامنے پیش کیا گیا تھا، جسے اب حتمی توثیق کے لیے گورنر سندھ کو ارسال کر دیا گیا ہے۔
مراحل اور بنیادی اہم معلومات

<ابتدائی سفر (اکتوبر 2022ء) کے پی ایس آئی اے جے کے تحت ‘فاطمیہ ہائر ایجوکیشن سسٹم’ کا قیام عمل میں لایا گیا، جس نے یونیورسٹی کے لیے بنیادی تعلیمی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ تیار کیا۔کابینہ کی منظوری (جون 2026ء): سندھ کابینہ نے مجوزہ یونیورسٹی کے چارٹر کی منظوری دے کر قانون سازی کا راستہ ہموار کیا۔اسمبلی سے منظوری (11 ستمبر 2026ء): سندھ اسمبلی نے بل نمبر 23 کو متفقہ طور پر پاس کیا۔

دنیا بھر میں 2025 کے دوران سکولوں پر حملوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا، یونیسکو

حتمی مرحلہگورنر سندھ کی توثیق کے بعد یونیورسٹی کے قیام کا قانونی عمل مکمل ہو جائے گا۔

موجودہ تعلیمی شعبے اور پروگرامز
فاطمیہ ہائر ایجوکیشن سسٹم پہلے ہی علمی و اخلاقی تربیت، سماجی ذمہ داری اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے متعدد ڈگری پروگرامز چلا رہا ہے

تربیتِ اساتذہ و تعلیم بی ایڈ (B.Ed) اور ایسوسی ایٹ ڈگری اِن ایجوکیشن

تجارت و کاروباری علوم
ایسوسی ایٹ ڈگری اِن کامرس

سائنس و صحت
بی ایس سائیکالوجی اور نرسنگ سے متعلق پروگرامز

اس قانون سازی کے نتیجے میں یونیورسٹی کو اپنی انتظامی ساخت کو حتمی شکل دینے، اعلیٰ سطح پر تعلیمی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور نئے بین الاقوامی معیار کے ڈگری پروگراموں کے باضابطہ آغاز کی قانونی ضمانت مل گئی ہے۔ تعلیمی ماہرین نے اسے کراچی میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا ہے۔