Categories: تازہ ترین

سندھ میں 838 نئے و ازسرنو تعمیر شدہ سکولوں میں داخلہ مہم شروع کرنے کا حکم

کراچی (سپیشل رپورٹر)

حکومتِ سندھ نے صوبے میں تعلیمی انقلاب لانے اور بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے بڑی پیشرفت کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر کے تعلیمی انتظامی اداروں کی کارکردگی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے واضح ہدایت جاری کی کہ زیرِ تعمیر 838 سکول جیسے ہی مکمل ہوں، فوراً داخلہ مہم شروع کی جائے اور پہلے ہی تعلیمی سال سے تمام سکولوں کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے۔

اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری آغا واصف، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نجم شاہ، سیکرٹری سکول ایجوکیشن زاہد عباسی، ڈائریکٹر جنرل پی پی پی یونٹ اسد ضامن اور پروجیکٹ ڈائریکٹر ایس ایس ای آئی پی رضوان سومرو سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

سکولوں کی تعمیر و بحالی: منصوبے کی تفصیلات اور اہداف

حکام نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے مالی و فنی تعاون سے سندھ بھر میں مجموعی طور پر 838 سکولوں کی تعمیر، اپ گریڈیشن اور بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے:

  • سندھ سیکنڈری ایجوکیشن اِمپرومنٹ پروجیکٹ (SSEIP): اس اصل منصوبے کے تحت 116 نئے سیکنڈری سکول قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سے 64 سکول دسمبر 2026ء تک مکمل کر لیے جائیں گے، جبکہ باقی 52 سکولوں کو جون 2027ء تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

  • سیلاب بحالی پروگرام: شدید متاثرہ 5 اضلاع میں 722 تباہ شدہ سکولوں کی دوبارہ تعمیر کا کام جاری ہے۔ ان سکولوں کو جدید "موسمیاتی اثرات سے محفوظ” (Climate-Resilient) ڈیزائن کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔

  • مجموعی ٹائم لائن: دسمبر 2026ء تک کل 257 سکول مکمل ہو جائیں گے۔ جون 2027ء تک یہ تعداد 611 تک پہنچ جائے گی، جبکہ باقی تمام سکولوں کی تعمیر 2027ء کے اختتام تک مکمل کر لی جائے گی۔

ساڑھے چار لاکھ سے زائد بچوں کی تعلیم تک رسائی

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بتایا کہ ان تعلیمی منصوبوں سے صوبے کے بچوں کو بڑے پیمانے پر فائدے حاصل ہوں گے:

  • نئے اور بحال شدہ سکول: تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار (ڈھائی لاکھ) بچوں کے لیے تعلیم کے مواقع پیدا ہوں گے۔

  • سیلاب متاثرہ اضلاع: 2 لاکھ 21 ہزار سے زائد بچوں کو دوبارہ تعلیمی دھارے میں شامل کیا جائے گا۔

  • سیکنڈری سطح: نئے اپ گریڈ شدہ سیکنڈری سکولوں میں 28 ہزار سے زائد نئے طلبہ و طالبات کو داخلہ دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

جدید سہولیات اور طلبہ دوست ماحول

اجلاس میں بتایا گیا کہ نئے تعمیر ہونے والے سکول محض عمارتیں نہیں ہوں گی بلکہ انہیں تمام عصری سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے:

  1. سائنس و کمپیوٹر لیبز: عملی تعلیم کے لیے جدید تجربہ گاہیں اور ڈیجیٹل لائبریریاں قائم کی جا رہی ہیں۔

  2. توانائی کی فراہمی: بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے تمام سکولوں میں شمسی توانائی (سولر سسٹم) کی سہولت دی جا رہی ہے۔

  3. طالبات کے لیے سہولیات: لڑکیوں کے لیے خصوصی کامن رومز اور طلبہ دوست ماحول کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔

  4. ایلیمنٹری سے سیکنڈری: سینکڑوں سیلاب متاثرہ سکولوں کو ایلیمنٹری سے سیکنڈری سطح تک اپ گریڈ بھی کیا جا رہا ہے۔

کمیونٹی کی شمولیت اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایات

وزیراعلیٰ نے تاکید کی کہ تعلیمی منصوبوں کی اصل کامیابی صرف نئی عمارتیں بنانے میں نہیں بلکہ بچوں کو سکولوں میں لا کر انہیں تعلیم سے جوڑنے میں ہے:

  • داخلہ مہم کا جامع پلان: سکولوں کی تعمیر مکمل ہونے سے قبل ہی ضلع وار سطح پر داخلہ منصوبے تیار کیے جائیں۔

  • عوامی نمائندوں کی شمولیت: بلدیاتی نمائندوں، مقامی رہنماؤں اور والدین کو داخلہ مہم میں شامل کیا جائے۔

  • آؤٹ آف سکول بچے: کمیونٹی سطح پر سکول سے باہر موجود بچوں کی نشاندہی کر کے ان کے خاندانوں سے رابطہ قائم کیا جائے تاکہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔

  • شفافیت اور اہداف: ہر سکول کے لیے داخلہ، بچوں کی موجودگی برقرار رکھنے اور تعلیمی نتائج کے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور تعلیمی انتظامی ادارے

صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ اچھے نتائج دینے والے تعلیمی انتظامی اداروں (EMOs) کے ساتھ شراکت داری کو برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 40 سکولوں کو تعلیمی اداروں کے حوالے کرنے کے پہلے مرحلے کا پروسیسنگ کام شروع کر دیا گیا ہے اور مزید سکولوں کو بھی مرحلہ وار ان کے سپرد کیا جائے گا تاکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک معیاری تعلیم پہنچائی جا سکے۔

چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آگاہی اور داخلہ مہمات میں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ تعلیمی بنیادی ڈھانچے میں کی جانے والی یہ سرمایہ کاری صوبے میں خواندگی کی شرح بڑھانے اور ایک مضبوط معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گی، جس سے بالخصوص لڑکیوں اور پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل روشن ہوگا۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

ایم ڈی کیٹ خیبرپختونخوا 38 ہزار سے زائد امیدواروں کا امتحان پرامن ماحول میں اختتام پذیر

پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر میڈیکل یونیورسٹی (KMU) کے زیرِ اہتمام خیبرپختونخوا بھر کے میڈیکل و…

1 گھنٹہ ago

ایم ڈی کیٹ 2026، پنجاب بھر کے 31 امتحانی مراکز میں پرامن انعقاد، 49 ہزار سے زائد امیدواروں کی شرکت

لاہور(سپیشل رپورٹر)پنجاب بھر میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ  2026ء کا امتحان تمام 15…

3 گھنٹے ago

کراچی، سرجانی ٹاؤن میں مدرسے جانے والی طالبہ سے نازیبا حرکت کرنے والا ملزم گرفتار

کراچی(کرائم رپورٹر) سرجانی ٹاؤن کے علاقے میں مدرسے جانے والی بچی سے گلی میں نازیبا حرکت…

23 گھنٹے ago

آزاد کشمیر،کالجز کے لیے نیا تعلیمی شیڈول جاری، ہفتہ اور اتوار تعطیل

مظفر آباد(سپیشل رپورٹر) محکمہ ہائر ایجوکیشن آزاد کشمیر نے تمام سرکاری و نجی کالجز میں پیر…

1 دن ago

"نوجوان پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اور ملک کی سمت کا تعین کرنے والی قوت ہیں” فیصل کریم کنڈی

پشاور(سپیشل رپورٹر) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی…

1 دن ago

ترکیہ کے 18 رکنی اعلیٰ سطحی تعلیمی وفد کا نسٹ کا دورہ، باہمی تعلیمی و تحقیقی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق

اسلام آباد(ایجو کیشن رپورٹر) ترکیہ کی معروف جامعات کے وائس چانسلرز، ریکٹرز اور اعلیٰ تعلیمی…

1 دن ago