اہم ترین

پی این سی اے کا طلبہ کے لیے قائد اعظم کے پورٹریٹ مقابلے کا اعلان

اسلام آباد (ایجو کیشن رپورٹر) پاکستان نیشنل کونسل آف دی...

سندھ پائیدار سکول کھانا پروگرام، 5 اضلاع کے 1336 سکولوں کے ڈھائی لاکھ طلباء مستفید ہوں گے

کراچی (اسپیشل رپورٹر) وزیرِاعلیٰ سندھ سے اقوامِ متحدہ کے عالمی...

پیما کے 4300 لائسنسی سکول دو ماہ کے معاوضوں سے محروم، 20 ہزار اساتذہ اور 6 لاکھ طلباء شدید متاثر

لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے ذیلی...

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا ایچ ای سی اور جامعات کے مسائل پر اجلاس، طلبہ کی ڈگریوں اور انتظامی امور پر ہدایات

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کا اہم اجلاس چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی تعلیمی اداروں کے انتظامی مسائل، طلبہ کی ڈگریوں کی تصدیق، اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں قواعد و ضوابط پر عملدرآمد سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے آغاز میں چیئرپرسن نے وفاقی وزیرِ تعلیم کی عدم شرکت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں متعلقہ وزارت کے اعلیٰ حکام کی موجودگی لازمی ہونی چاہیے تاکہ عوامی مسائل کا بروقت حل ممکن ہو سکے۔

الخیر یونیورسٹی کی ڈگریوں کی تصدیق اور ری ٹیسٹ کا معاملہ

اجلاس میں الخیر یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلبہ کی ڈگریوں کی تصدیق کا معاملہ تفصیل سے زیرِ بحث آیا
ایچ ای سی کا موقف چیئرمین HEC ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بتایا کہ یونیورسٹی کو بعض کیمپسز بند کرنے اور 2018 تک داخلے نہ لینے کی ہدایات دی گئی تھیں، تاہم اس کے باوجود داخلے جاری رہے اور مطلوبہ ریکارڈ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ ایچ ای سی نے ان طلبہ کا
دوبارہ امتحان (Re-test)لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیما کے 4300 لائسنسی سکول دو ماہ کے معاوضوں سے محروم، 20 ہزار اساتذہ اور 6 لاکھ طلباء شدید متاثر

کمیٹی کا موقف چیئرپرسن بشریٰ انجم بٹ نے سالوں بعد فارغ التحصیل طلبہ سے دوبارہ امتحان لینے کی عملی دشواریوں کی نشاندہی کی۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے معاملے میں سپریم کورٹ کی ہدایات اور قانونی پہلوؤں کے مطابق فیصلہ کرنے پر زور دیا، جس پر چیئرمین ایچ ای سی نے عدالتِ عظمیٰ کے احکامات پر کامل عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔

وفاقی اردو یونیورسٹی کے مالی و انتظامی مسائل
کمیٹی نے وفاقی اردو یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں، پنشن اور انتظامی امور کا جائزہ بھی لیا

یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بتایا کہ سنڈیکیٹ کا اجلاس منعقد کیا گیا ہے جبکہ نئی سینیٹ کی تشکیل کا عمل جاری ہے۔

کمیٹی اراکین نے بغیر کورم کے اجلاس اور انتظامی فیصلوں پر سوالات اٹھائے، جبکہ بیرون ملک موجود ملازمین کو قواعد کے تحت تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق بھی وضاحت طلب کی گئی۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی کے تمام معاملے کو ضوابط، قانون اور ادارہ جاتی نظم کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔
اجلاس میں سینیٹر سید مسرور احسن، سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر خالدہ عطیب اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ چیئرپرسن کمیٹی نے عزم کا اظہار کیا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے تمام مسائل قانون، دستیاب ریکارڈ اور طلبہ کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حل کیے جائیں گے۔