متنازع ویڈیوز کا معاملہ، پرو وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی دادو کیمپس معطل
دادو/کراچی (نمائندہ خصوصی) حکومتِ سندھ نے سندھ یونیورسٹی کے دادو کیمپس میں تعینات پرو وائس چانسلر اور فوکل پرسن پروفیسر اظہر شاہ کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مبینہ متنازع ویڈیوز کے باعث عہدے سے معطل کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو کی ہدایت پر معطلی کا نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے معاملے کی جانچ پڑتال کے لیے اعلیٰ سطح کی تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
محکمہ جامعات و بورڈز کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز، جن میں مبینہ طور پر پروفیسر اظہر شاہ موجود ہیں، یونیورسٹی جیسے مقدس تعلیمی ادارے کی ساکھ اور وقار کو شدید متاثر کرنے کا باعث بنی ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں ڈسپلن اور اخلاقی اقدار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب معطل پرو وائس چانسلر پروفیسر اظہر شاہ نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان ویڈیوز کو جعلی قرار دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ سٹوڈنٹس ویک اور الوداعی تقریبات کی ویڈیوز کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے ویڈیوز میں رد و بدل کر کے انہیں بدنام کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ ان کے بقول، اصل تنازع اساتذہ کی حاضری کے نظام کو بہتر بنانے پر پیدا ہوا، جس کے بعد ان کے خلاف مہم شروع کی گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند روز سے زیرِ گردش دو مختلف ویڈیوز میں سے ایک میں مبینہ طور پر پروفیسر کو اساتذہ کی ڈیوٹی کے معاملے پر الجھتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ دوسری ویڈیو میں وہ طلبہ کے جھرمٹ میں گاڑی میں سوار ہوتے وقت لڑکھڑاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی ان ویڈیوز کی تکنیکی حقیقت اور اصل حقائق کا تعین کرے گی جس کی رپورٹ کی روشنی میں حتمی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔



