میٹرک بورڈ کراچی میں ‘بحران’ کھڑا ہو گیا: امتحانات سے 4 روز قبل کنٹرولر تبدیل
لاڑکانہ سے امپورٹڈ افسر کی تعیناتی پر ملازمین میں شدید اشتعال، مزاحمت کا خدشہ
احمد خان چٹو کی واپسی، ماضی کے تلخ تجربات نے امتحانی عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا
کراچی (خصوصی رپورٹر) شہرِ قائد کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ، ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں سالانہ امتحانات کے آغاز سے محض 96 گھنٹے قبل کنٹرولر امتحانات کی اچانک تبدیلی نے محکمہ تعلیم کی کارکردگی اور نیت پر شکوک و شبہات کے بادل منڈلا دیئے ہیں۔ حکومتِ سندھ نے ایک متنازعہ فیصلے کے تحت لاڑکانہ بورڈ کے انسپکٹر اسکولز احمد خان چٹو کو کراچی میٹرک بورڈ کا نیا کنٹرولر تعینات کر دیا ہے، جس کے بعد بورڈ میں انتظامی ‘جنگ’ چھڑنے کا قوی امکان پیدا ہو گیا ہے۔
سنسنی خیز انکشافات: ذرائع کا کہنا ہے کہ احمد خان چٹو کی یہ تعیناتی کوئی سادہ معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہرے بساط بچھے ہوئے ہیں۔ موصوف کو اس سے قبل انٹر بورڈ کراچی میں بھی تعینات کیا گیا تھا، جہاں ملازمین نے ان کے خلاف ‘اعلانِ جنگ’ کر دیا تھا۔ اس وقت ملازمین کی شدید ترین مزاحمت اور دھکم پیل کے باعث موصوف جوائننگ دینے میں ناکام رہے تھے اور انہیں ذلت آمیز طریقے سے واپس بھیج دیا گیا تھا۔
امتحانات داؤ پر لگ گئے: تعلیمی حلقوں میں دہائی دی جا رہی ہے کہ جب میٹرک کے امتحانات سر پر ہیں اور پرچہ جات کی ترسیل، مراکزِ امتحان کی تشکیل اور عملے کی ڈیوٹیاں فائنل ہو رہی ہیں، ایسے میں ایک ‘ناپسندیدہ’ افسر کو تھوپنا لاکھوں طالبات اور طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
ملازمین کا ردِعمل: اطلاعات کے مطابق میٹرک بورڈ کے ملازمین نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اندرونی سطح پر صف بندی شروع کر دی ہے۔ ملازمین کا موقف ہے کہ کراچی کے اداروں کو تجربہ گاہ نہ بنایا جائے اور مقامی افسران کو نظر انداز کر کے ‘سیاسی بھرتیاں’ بند کی جائیں۔ اگر احمد خان چٹو نے زبردستی چارج لینے کی کوشش کی تو بورڈ میں کام ٹھپ ہو سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہوگی۔

