اہم ترین

طلبہ حقوق کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کا رحیم یار خان سے لاہور ‘روڈ کارواں’ کا اعلان

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) اسلامی جمعیت طلبہ تنظیم نے 9 نومبر...

کراچی, فرسٹ ایئر سالانہ نتائج 2026 کا نئے گریڈنگ سسٹم کے تحت اعلان

کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین...

کراچی یونیورسٹی,مستحق طلبہ اور فیکلٹی آف آرٹس کے لیے 5 کروڑ کے اینڈومنٹ فنڈ کا قیام

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر...

طلبہ میں سائنسی سوچ کےفروغ کیلئے سندھ میں ساڑھے 8 ہزار سائنس اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) سندھ میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور...

میٹرک نتائج، بورڈز کا ٹاپ 20 پوزیشن ہولڈر طلبہ کے پرچوں کی ری چیکنگ کا آغاز

صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز نےمیٹرک امتحانات کے ممکنہ ٹاپ 20 پوزیشن ہولڈر طلبہ کے پرچوں کی دوبارہ جانچ کا عمل شروع کر دیا ہے
​تمام تعلیمی بورڈز کے نمایاں طلبہ کی کراس ویلیڈیشن دوسرے بورڈز کے ماہر امتحانی عملے سے کروائی جا رہی ہے، نتائج کی بروقت اور شفاف تیاری کو حتمی شکل دی جا رہی ہے
​

لاہور (ایجو کیشن رپورٹر)
​صوبے بھر کے تمام 9 تعلیمی بورڈز نے میٹرک سالانہ امتحانات کے نتائج کو مزید شفاف، منصفانہ اور معیاری بنانے کے لیے ٹاپ 20 پوزیشن ہولڈر طلبہ کے امتحانی پرچوں کی دوبارہ جانچ (کراس ویلیڈیشن) کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ عمل 6 اگست سے قبل مکمل کر لیا جائے گا۔
​

بورڈ ذرائع کے مطابق اس کراس ویلیڈیشن کے تحت لاہور بورڈ سمیت پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز (راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، سرگودھا، بہاولپور، ساہیوال اور ڈی جی خان بورڈ) کے نمایاں طلبہ کے پرچوں کی جانچ دوسرے بورڈز کے ماہر امتحانی عملے سے کروائی جا رہی ہے تاکہ مارکنگ کے عمل میں کسی ممکنہ غلطی یا تفاوت کو دور کیا جا سکے اور تمام بورڈز میں یکساں معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔
​

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد امتحانی نظام میں شفافیت، غیر جانبداری اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اگر دوبارہ جانچ کے دوران کسی پرچے کے نمبروں میں نمایاں فرق سامنے آتا ہے تو متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق اس کا جائزہ لے کر ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
​تعلیمی بورڈز کی جانب سے کراس ویلیڈیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ تمام تعلیمی بورڈز کے میٹرک سالانہ امتحانات کے نتائج 6 اگست کو جاری کر دیے جائیں اور طلبہ کو درست، شفاف اور قابل اعتماد نتائج کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔