حکومت کا نجی سکولوں پر کمرشلائزیشن فیس نافذ کرنے کا فیصلہ، تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر
“کرائے 10 فیصد بڑھتے ہیں، فیس صرف 5 فیصد؛ بوجھ والدین پر پڑے گا”، نجی سکول مالکان کا حکومتی فیصلے پر سخت ردعمل
لاہور (نیوز ڈیسک): حکومت نے پرائیویٹ سکولوں کی زمین اور بلڈنگ کے استعمال کو قواعد و ضوابط کے دائرے میں لانے کے لیے کمرشلائزیشن فیس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اہم فیصلے اور اس کے اطلاق کے حوالے سے سپیشل سیکریٹری سکولز محمد اقبال کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں نجی تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
اجلاس کی تفصیلات
محکمہ سکول ایجوکیشن میں ہونے والے اس اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر فرحان اور نجی سکولوں کی جانب سے میاں عمران مسعود (ریکٹر یونیک گروپ)، قاضی نعیم انجم، کاشف ادیب اور علی رضا نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس فیس کے طریقہ کار اور اس کے تعلیمی نظام پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
نجی سکولوں کا موقف
پرائیویٹ سکولوں کے نمائندوں نے کمرشلائزیشن فیس کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ:
- والدین پر مالی بوجھ: اس فیس کا براہِ راست بوجھ والدین پر پڑے گا، جو پہلے ہی معاشی حالات کی وجہ سے پریشان ہیں۔
- تضاد: نمائندہ علی رضا کا کہنا تھا کہ بلڈنگز کے کرایوں میں سالانہ 10 فیصد اضافہ ہوتا ہے جبکہ حکومت نے سکول فیس میں اضافے کی حد 5 فیصد مقرر کر رکھی ہے۔ اس توازن کے بگڑنے سے تعلیمی ادارے بند ہونے کا خدشہ ہے۔
- معیارِ تعلیم: میاں عمران مسعود نے اپیل کی کہ حکومت نجی شعبے کو ریلیف دے تاکہ تعلیمی معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔
حکومتی یقین دہانی
سپیشل سیکریٹری محمد اقبال نے نجی اداروں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے مسائل سے چشم پوشی نہیں کرے گی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ:
“کمرشلائزیشن فیس کے نفاذ کے لیے ایک سلیب سسٹم (Slab System) بنایا جائے گا تاکہ ہر ادارے پر اس کی حیثیت کے مطابق بوجھ پڑے اور چھوٹے اداروں کو تحفظ مل سکے۔”



