اہم ترین

پاکپتن, اینٹی کرپشن کی ریڈ، 40 ہزار رشوت لیتے محکمہ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

پاکپتن(نامہ نگار) اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے محکمہ...

اردو یونیورسٹی کی زبوں حالی، ایچ ای سی کی اعلیٰ کمیٹی کی موجودہ قیادت تبدیل کرنے کی سفارش

 اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن  کی اعلیٰ سطح...

دنیا بھر میں 2025 کے دوران سکولوں پر حملوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا، یونیسکو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو...

پاکستان نیوی انجینئرنگ کالج کراچی کے وفدکا پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا دورہ

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)کستان نیوی انجینئرنگ کالج کراچی کے وفد نے انڈسٹریل وزٹ کے سلسلے میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا دورہ کیا۔ دورے کا مقصد زیرِ تربیت نیول افسران کو حکومتِ پنجاب کی جانب سے عوامی خدمات کی بہتری، شفافیت اور مؤثر طرزِ حکمرانی کیلئے متعارف کروائی گئی جدید ڈیجیٹل اصلاحات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات بارے آگاہ کرنا تھا۔ پاکستان نیوی انجینئرنگ کالج، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کا ایک اہم ذیلی ادارہ ہے۔

پی آئی ٹی بی ڈائریکٹر جرنلز وقار نعیم قریشی اور سید قاسم افضال نے وفد کو پنجاب بھر میں نافذ کیے گئے ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبوں اور ان منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی جنہیں دیگر صوبوں نے بطور ماڈل اختیار کرتے ہوئے اپنایا ہے۔ وفد کو حکومتِ پنجاب کے فلیگ شپ منصوبوں پر مبنی ایک خصوصی ویڈیو پریزنٹیشن بھی دکھائی گئی۔ بعد ازاں وفد نے ارفع سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کی مختلف سہولیات کا دورہ کیا

جہاں پی آئی ٹی بی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایڈمن ذوالفقار علی شاہین اور ڈائریکٹر ہارون رسول کھوکھر نے انہیں مختلف سسٹمز، آپریشنل طریقہ کار اور انتظامی امور کے حوالے سے بریفنگ دی۔ دورے کے اختتام پر وفد کو ای خدمت مراکز میں شہریوں کو ایک ہی چھت تلے فراہم کی جانے والی سہولیات کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل سروس ڈیلیوری کے نظام بارے بھی بریف کیا گیا۔ پی آئی ٹی بی چیئرمین فیصل یوسف نے اپنے پیغام میں کہا کہ

اس نوعیت کے مطالعاتی دوروں کا مقصد زیرِ تربیت افسران کو طرزِ حکمرانی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، ڈیجیٹل گورننس کے جدید تقاضوں اور عوامی خدمات کی فراہمی میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار سے عملی آگاہی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ تجربہ اور مشاہدہ افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنے گا اور انہیں اپنے متعلقہ شعبوں میں جدت، مؤثریت اور بہترین طرزِ عمل کو فروغ دینے میں مدد فراہم کرے گا۔