اہم ترین

دنیا بھر میں 2025 کے دوران سکولوں پر حملوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا، یونیسکو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو...

اورنگی ٹاؤن، نشیوں کی سریا نکالنے کی کوشش، سکول کی دیوار گرنے سے 5 افراد جاں بحق

کراچی (کرائم رپورٹر) روشنیوں کے شہر کراچی کے علاقے اورنگی...

ناقص نتائج کے حامل سکول سربراہان نوکریوں سے برخاست ہوں گے۔ وزیر تعلیم

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر) نہم دہم کے نتائج کی ذمہ...

پنجاب 5ویں اور 8ویں کے امتحانات پیکٹا کے تحت ہوں گے، فروری 2027 کی تاریخ طے

لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب میں پانچویں اور آٹھویں جماعت کے...

پریکٹیکلز کی سنٹرل مارکنگ سے سفارش کلچر کا خاتمہ ہو گیا, کنٹرولر امتحانات توصیف الرحمان

پہلی بار پریکٹیکلز کی سنٹرل مارکنگ کے ساتھ میٹرک رزلٹ 2026 کا اعلان 6 اگست کو ہو گا
پریکٹیکلز کی سنٹرل مارکنگ سے دہائیوں پر محیط سفارش کلچر کا خاتمہ ہو گیا: کنٹرولر امتحانات توصیف الرحمان

شفاف امتحانات کے لیے 11 اقسام کے خصوصی سکواڈز تشکیل دیے گئے، سی ایم پورٹل اور واٹس ایپ پر شکایات کا فوری ازالہ ممکن بنایا گیا

لاہور (سپیشل رپورٹر) پہلی بار پریکٹیکلز کی سنٹرل مارکنگ کے ساتھ میٹرک امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان 6 اگست کو کیا جائے گا۔ پریکٹیکلز کی سنٹرل مارکنگ سے دہائیوں سے قائم سفارش کلچر کا خاتمہ ممکن ہو گیا ہے۔

اردو تعلیم ڈاٹ کام’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کنٹرولر امتحانات توصیف الرحمان نے بتایا کہ بوٹی مافیا کے خاتمے اور شفاف امتحانات کے انعقاد کے لیے میٹرک اور انٹر میڈیٹ میں سخت مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں پہلی بار 11 مختلف اقسام کے سکواڈز تشکیل دیے گئے، جن میں سی ایم سکواڈ، منسٹر سکواڈ، چیئرمین سکواڈ، کنٹرولر سکواڈ اور موبائل انسپکٹرز شامل تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سی ایم پورٹل پر موصول ہونے والی شکایات کا فوری ازالہ کیا گیا، جبکہ امتحانی سنٹرز میں ان کا اپنا واٹس ایپ نمبر بھی آویزاں کیا گیا تھا تاکہ طلبا و

طالبات کسی بھی فوری مسئلے یا بوٹی مافیا سے متعلق شکایات براہِ راست درج کروا سکیں۔ امتحانی مراکز کی کڑی نگرانی کیمروں کے ذریعے کی گئی جبکہ بائیو میٹرک تصدیق کو بھی یقینی بنایا گیا۔

کنٹرولر امتحانات نے زور دے کر کہا کہ میٹرک امتحان 2026 کا رزلٹ اس لحاظ سے تاریخی اور شفاف ہے کہ اس بار پریکٹیکلز کی سنٹرل مارکنگ کی گئی ہے۔ اس نئے نظام کے تحت سفارش پر کوئی ایک بچہ بھی پریکٹیکل میں 30 نمبر نہیں لگوا پایا، بلکہ میرٹ کی بنیاد پر صرف ذہین بچے ہی اچھے نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ میٹرک نتائج کے لیے باقاعدہ تقریب کے انعقاد کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور مہمانوں کی فہرست بھی تیار کر لی گئی ہے