اہم ترین

جنوبی وزیرستان لوئیر میں کرفیو کیخلاف طلبہ کا مظاہرہ، نرمی کا مطالبہ

پشاور (سپیشل رپورٹر) جنوبی وزیرستان لوئر میں روزانہ کی...

گورنر ہاوس کراچی میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب

کراچی (خبر نگار / این این آئی) وزیراعظم یوتھ...

پاکپتن, اینٹی کرپشن کی ریڈ، 40 ہزار رشوت لیتے محکمہ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

پاکپتن(نامہ نگار) اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے محکمہ...

اردو یونیورسٹی کی زبوں حالی، ایچ ای سی کی اعلیٰ کمیٹی کی موجودہ قیادت تبدیل کرنے کی سفارش

 اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن  کی اعلیٰ سطح...

پنجاب بھر کے کالج اساتذہ کے تقرر و تبادلوں پر عائد پابندی ختم

محکمہ ہائر ایجوکیشن نے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، ای-ٹرانسفر پورٹل کے ذریعے درخواستیں طلب

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کے سرکاری کالجز کے اساتذہ کے لیے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے تقرر و تبادلوں پر عائد طویل پابندی ختم کر دی ہے۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے بعد اساتذہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ای-ٹرانسفر سسٹم فعال محکمہ کے مطابق، تبادلوں کا تمام عمل شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے آن لائن ‘ای-ٹرانسفر پورٹل’ کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔ اساتذہ اپنی مرضی کے اسٹیشنز پر تبادلے کے لیے مخصوص مدت کے اندر آن لائن درخواستیں جمع کرا سکیں گے۔ پورٹل پر خالی اسامیوں کی تفصیلات بھی فراہم کر دی گئی ہیں تاکہ اساتذہ میرٹ کی بنیاد پر انتخاب کر سکیں۔

پالیسی کے اہم نکات

  • میرٹ کی بنیاد: تبادلے مکمل طور پر میرٹ اور محکمہ کی وضع کردہ ٹرانسفر پالیسی کے مطابق ہوں گے۔
  • ترجیحات: معذور اساتذہ، بیوہ، مطلقہ اور میاں بیوی کے ایک ہی شہر میں تعیناتی (Wedlock Policy) کو ترجیح دی جائے گی۔
  • مدتِ ملازمت: ایک ہی اسٹیشن پر مخصوص مدت مکمل کرنے والے اساتذہ ہی درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔

محکمہ ہائر ایجوکیشن کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد اساتذہ کی سفری مشکلات کو کم کرنا اور تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی کو دور کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تبادلوں کے عمل میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام آرڈرز کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے تحت جاری ہوں گے۔

واضح رہے کہ صوبے میں انتظامی وجوہات کی بنا پر گزشتہ کئی ماہ سے تبادلوں پر پابندی عائد تھی، جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں میں تعینات اساتذہ کو شدید پریشانی کا سامنا تھا۔