اہم ترین

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں...

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت...

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ...

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا...

پنجاب کی سرکاری طبی یونیورسٹیوں کے قوانین میں ترامیم، نیا آرڈیننس نافذ

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) پنجاب کی سات سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے قوانین میں اہم ترامیم کرتے ہوئے نیا

آرڈیننس نافذ کر دیا گیا ہے۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے پبلک سیکٹر میڈیکل یونیورسٹیز سیکنڈ ترمیمی

آرڈیننس 2026ء جاری کر دیا ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو چیف ایگزیکٹو اور

چیف ایگزیک آفیسر کی حیثیت دے دی گئی ہے، اور وائس چانسلرز کو متعلقہ یونیورسٹیوں کے افسران، اساتذہ

اور دیگر ملازمین پر انتظامی کنٹرول حاصل ہوگا۔

 بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، کم کارکردگی والے شعبوں کو ضم کرنے کا فیصلہ، اکیڈمک کونسل نے منظوری دے دی

اس کے علاوہ متعلقہ میڈیکل کالجوں، تدریسی ہسپتالوں، سکولوں اور اداروں کا انتظامی کنٹرول بھی وائس چانسلرز

کے دائرہ اختیار میں شامل کر دیا گیا ہے۔ ترامیم کے تحت کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کی متعلقہ یونیورسٹی کے

ذیلی کالج کے طور پر قانونی حیثیت بحال کر دی گئی ہے، فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور کو فاطمہ جناح میڈیکل

یونیورسٹی کے ذیلی کالج کی حیثیت دے دی گئی جبکہ پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد کی فیصل آباد میڈیکل

یونیورسٹی کے ذیلی کالج کے طور پر حیثیت بھی بحال کر دی گئی ہے۔ اسی طرح راولپنڈی میڈیکل کالج اور نشتر

میڈیکل کالج ملتان کی متعلقہ یونیورسٹیوں کے ذیلی کالجوں کے طور پر قانونی حیثیت بحال کر دی گئی ہے۔