Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeبریکنگ نیوزکالجوں میں منشیات مخالف مہم کا آغاز، لیکچرز، سیمینارز اور واکس کروانے...

کالجوں میں منشیات مخالف مہم کا آغاز، لیکچرز، سیمینارز اور واکس کروانے کا فیصلہ

پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) خیبر پختونخوا حکومت نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے اور طلبہ کی کردار سازی کے لیے ایک بڑے اور فیصلہ کن اقدام کا آغاز کر دیا ہے۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم نے صوبے بھر کے سرکاری کالجوں میں خصوصی سو سائٹیوں کے قیام کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ احکامات قومی احتساب بیورو (نیب) کی ہدایات کی روشنی میں جاری کیے گئے ہیں، جن پر فوری عمل درآمد یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

اساتذہ و طلبہ پر مشتمل کمیٹیاں: اینٹی ڈرگ ایمبیسیڈرز بھی نامزد ہوں گے

سرکاری دستاویزات کے مطابق، صوبے کے کالجوں میں ‘کریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز’ قائم کی جا رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے اساتذہ پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جبکہ طلبہ میں سے ‘اینٹی ڈرگ ایمبیسیڈرز’ (منشیات مخالف سفیر) بھی نامزد کیے جائیں گے۔ ہر کالج میں ایک باقاعدہ کمیٹی قائم کی جائے گی جو تعلیمی اداروں میں منشیات کی دستیابی اور استعمال کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔

کردار سازی، رہنمائی اور آگاہی: کمیٹیوں کی ذمہ داریاں

یہ کمیٹیاں نہ صرف منشیات کی روک تھام بلکہ طلبہ کی اخلاقی تربیت اور کردار سازی کے لیے بھی کام کریں گی۔ ان کی ذمہ داریوں میں درج ذیل اہم نکات شامل ہوں گے:

  • طلبہ میں آگاہی پیدا کرنا: کمیٹیاں طلبہ میں منشیات کے استعمال کے خلاف آگاہی مہمات چلائیں گی اور انہیں اس سماجی ناسور سے دور رکھنے کے لیے اقدامات کریں گی۔
  • عادی افراد کی رہنمائی اور کونسلنگ: منشیات کے عادی افراد کی نشاندہی، ان کی رہنمائی اور کونسلنگ کا انتظام کیا جائے گا تاکہ انہیں صحت مند زندگی کی طرف واپس لایا جا سکے۔
  • انسداد منشیات مہمات: تعلیمی اداروں اور متعلقہ دیگر اداروں کے تعاون سے انسداد منشیات مہمات چلائی جائیں گی۔
  • مختلف سرگرمیوں کی نگرانی: کمیٹیاں کالج میں مختلف سرگرمیوں کی نگرانی کریں گی تاکہ منشیات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

اینٹی ڈرگ ایمبیسیڈرز کا کردار: آگاہی اور نگرانی

کالج سے منتخب کیے جانے والے ‘اینٹی ڈرگ ایمبیسیڈرز’ کا کردار بھی انتہائی اہم ہو گا۔ یہ طلبہ میں منشیات کے نقصانات سے متعلق شعور اجاگر کریں گے۔ ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہو گا:

  • آگاہی لیکچرز، سیمینارز اور واکس: آگاہی لیکچرز، سیمینارز اور واکس جیسے پروگراموں کا انعقاد کرنا اور طلبہ کو ان میں حصہ لینے کے لیے ترغیب دینا۔
  • دیگر تقریبات میں کردار: کالج میں ہونے والی دیگر تقریبات کے انعقاد میں بھی یہ طلبہ اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔
  • مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع: سب سے اہم ذمہ داری یہ ہو گی کہ وہ کالج میں کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمیوں، یا منشیات کی سپلائی سے متعلق معلومات بروقت متعلقہ کمیٹی تک پہنچائیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

حکومت خیبر پختونخوا کے اس اقدام کو تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنے کی سمت میں ایک بڑا اور اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف طلبہ کی کردار سازی ہو گی بلکہ ان کے مستقبل کو بھی محفوظ بنایا جا سکے گا۔ امید ہے کہ اساتذہ، طلبہ اور معاشرے کے دیگر طبقات اس اہم مہم میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں گے تاکہ یہ مہم کامیابی سے ہمکنار ہو سکے اور تعلیمی ادارے امن و امان اور تعلیمی ماحول کا گہوارہ بن سکیں۔