لاہور(سپیشل رپورٹر)یونیورسٹی آف گجرات کی متنازعہ بھرتی پالیسی کے خلاف اسسٹنٹ پروفیسرز کی لاہور ہائیکورٹ میں رٹ پر عدالت نے گورنر/چانسلر کومعاملہ 30 دن میں حل کرنے کا حکم دے دیا ہے متنازعہ پالیسی سے یونیورسٹی کے 80 فیصد اساتذہ متاثر ہوے تھے
یونیورسٹی آف گجرات کے اساتذہ اسسٹنٹ پروفیسرز کی نئی بھرتی کے غیرقانونی کرائیٹیریا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئےعدالتِ نے گورنر کو معاملات حل کرکے 30 دن کے اندر جواب داخل کرانے کا حکم دے دیا ہےتفصیلات کے مطابق یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ نے لیکچررز،اسسٹنٹ پروفیسرز،ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور پروفیسرز کی بھرتی کے لیے
پالیسی میں تبدیلی کی جو کہ یونیورسٹی آف گجرات کے ایکٹ 2004کی خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ ایچ ای سی اور ایچ ای ڈی کی بھرتی پالیسی 2021 کے خلاف ہے ذرائع کے مطابق سنڈیکیٹ کے اس عمل سے یونیورسٹی آف گجرات کے80 فیصد اساتذہ متاثر ہوئے ہیں عدالت میں دلائل دیتے ہوئے یونیورسٹی اساتذہ کے وکیل نے موقف اپنا یا کہ کسی بھی پی ایچ ڈی ڈاکٹر کو ریسرچ مارکس کی بنیاد پر “نااہل” (Ineligible) قرار نہیں دیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ یونیورسٹی آف گجرات کی سٹیٹیوٹس 2011 کی خلاف ورزی ہے
اور یونیورسٹی ایکٹ 2004 کی دفعہ 27 کی خلاف ورزی بھی ہےیہ ایچ ای سی (HEC) کے کم از کم معیار کے خلاف ہےیہ ایچ ای ڈی (HED) پالیسی 2021 کے منافی بھی ہے اور یہ پالیسی آئین کے آرٹیکل 18 (پیشہ ورانہ آزادی) اور آرٹیکل 25 (برابری) پر ضرب لگاتی ہے جس کے بعد ہائیکورٹ نے گورنر/چانسلر کو 30 دن کے اندر اساتذہ کو سن کر ان کے معاملات حل کرنے کا حکم جاری کردیا ہے










