گومل یونیورسٹی میں 71 افسران کی ترقیاں غیر قانونی قرار، تحقیقاتی رپورٹ منظرِ عام پر
بھرتیوں میں اضافی نمبرز دینے اور ناکام امیدوار کو پاس کرنے کے سنسنی خیز انکشافات تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے اصل ریکارڈ کی فوری تصدیق اور جانچ کی سفارش
ڈیرہ اسماعیل خان (یونیورسٹی رپورٹر) گومل یونیورسٹی میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور خلافِ ضابطہ ترقیوں کے معاملے پر قائم تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں بڑے پیمانے پر انتظامی بے ضابطگیوں اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے اہم و سنسنی خیز نکات:
-
71 افسران کی ترقیاں غیر قانونی: رپورٹ کے مطابق گومل یونیورسٹی میں 71 افسران کو گریڈ 18، 19 اور 20 میں دی گئی ترقیاں مکمل طور پر غیر قانونی اور قواعد کے منافی قرار دی گئی ہیں۔
-
اضافی اکیڈمک نمبرز کی بندر بانٹ: تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ چند من پسند امیدواروں کو مبینہ طور پر اضافی اکیڈمک نمبرز دیے گئے اور اکیڈمک ریکارڈ میں ردوبدل کیا گیا۔
-
ناکام امیدوار کو کامیاب قرار دینے کا انکشاف: رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اینٹری ٹیسٹ میں ناکام ہونے والے ایک امیدوار کو نتائج میں ہیرپھیر کر کے مبینہ طور پر پاس قرار دیا گیا۔
تحقیقاتی کمیٹی کی اہم سفارشات: کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ تمام مبینہ غیر قانونی تقرریوں اور ترقیوں کے اصل ریکارڈ کی فوری اور شفاف تصدیق کی جائے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ٹیسٹ نتائج اور اکیڈمک نمبرز کی تفصیلی جانچ پڑتال کی جائے تاکہ اس تمام گٹھ جوڑ میں ملوث عناصر کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔

