Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeبریکنگ نیوزیونیورسٹی آف ملاکنڈ میں میرٹ کی مبینہ پامالی اور اقربا پروری کا...

یونیورسٹی آف ملاکنڈ میں میرٹ کی مبینہ پامالی اور اقربا پروری کا انکشاف

یونیورسٹی آف ملاکنڈ میں میرٹ کی مبینہ پامالی اور اقربا پروری کا انکشاف، وزیر اعلیٰ سے مداخلت کی اپیل

پشاور (نیوز رپورٹر)یونیورسٹی آف ملاکنڈ میں بھرتیوں اور ترقیوں میں میرٹ کی مبینہ پامالی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سیاسی مداخلت کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ اساتذہ اور جامعہ کی تنظیموں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو خط لکھ کر معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کروانے کی درخواست کر دی ہے۔

مبینہ بے قاعدگیوں کی تفصیلات:

دستاویزات کے مطابق مختلف شعبہ جات میں میرٹ کو نظر انداز کرنے کے درج ذیل کیسز سامنے آئے ہیں:

شعبہ نباتیات: میرٹ لسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے ڈاکٹر علی حضرت کو نظر انداز کر کے مبینہ طور پر غیر متعلقہ تخصص (Specialization) رکھنے والے ڈاکٹر فضل ہادی کو پروفیسر کے عہدے کے لیے تجویز کیا گیا۔

شعبہ بایو کیمسٹری: اعلیٰ میرٹ اور سینیارٹی رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا ناز کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ مبینہ طور پر ایک لیکچرر ڈاکٹر نوشین کو دو درجاتی ترقی دے کر ایسوسی ایٹ پروفیسر بنا دیا گیا۔ اس امتیازی سلوک پر چیئرمین شعبہ ڈاکٹر عالم زیب نے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور دستخط سے انکار کر دیا۔

شعبہ کامرس: ڈاکٹر عالم زیب کے انٹرویو نمبرز میں مبینہ طور پر کمی کی گئی۔ وہ 48.35 نمبر حاصل کرنے کے باوجود منتخب نہ ہو سکے، جبکہ 46.36 نمبر لینے والے امیدوار کو کامیاب قرار دے دیا گیا۔

خط میں یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ اس سے قبل یونیورسٹی آف ہری پور میں بھی ایسی ہی بے قاعدگیوں پر صوبائی حکومت نے تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم کی تھی، لہٰذا ملاکنڈ یونیورسٹی کے معاملے پر بھی فوری ایکشن لیا جائے۔