یو ای ٹی لاہور میں طلبہ سوسائٹیز کے صدور سے وائس چانسلر کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں، طلبہ فلاح و بہبود اور تعلیمی بہتری کے متعدد اقدامات کا اعلان
لاہور (ایجو کیشن رپورٹر ) یو ای ٹی لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر (تمغۂ امتیاز) نے یونیورسٹی کی تمام طلبہ سوسائٹیز کے صدور سے ایک خصوصی اور تعاملی اجلاس میں ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے طلبہ سرگرمیوں، کیمپس کی ترقی، تعلیمی معیار میں بہتری، تحقیقی فروغ اور طلبہ کی فلاح و بہبود کے حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کے وژن اور مختلف منصوبوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اجلاس میں رجسٹرار محمد آصف، ڈی ایس اے ڈاکٹر آمنہ نیازی، پی آر او ڈاکٹر تنویر قاسم اور میڈیا کنسلٹنٹ مدیحہ اقبال شامل تھے۔
وائس چانسلر نے کہا کہ طلبہ سوسائٹیز یونیورسٹی کے ہم نصابی ماحول کو فعال اور مؤثر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے تمام سوسائٹیز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے سالانہ پروگراموں کا کیلنڈر تیار کرکے انتظامیہ کو جمع کروائیں تاکہ پورے سال کی سرگرمیوں کی بہتر منصوبہ بندی، بجٹ اور مؤثر ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہر سال کانووکیشن کے موقع پر تمام طلبہ سوسائٹیز کے صدور کو ان کی خدمات اور قیادت کے اعتراف میں خصوصی اسناد سے نوازا جائے گا۔
پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے یو ای ٹی لاہور کے نمایاں اور روایتی پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ مشاعرہ، ڈرامہ فیسٹیول، مباحثے اور دیگر اہم ہم نصابی سرگرمیاں طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور یونیورسٹی ان پروگراموں کے مزید فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یو ای ٹی کے تمام کیمپسز میں ترقیاتی اور تزئین و آرائش کے وسیع منصوبوں پر کام جاری ہے۔ لاہور کیمپس کے ہاسٹلز کی مکمل تزئین و آرائش کی جا رہی ہے جبکہ دیگر کیمپسز میں بھی رہائشی سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ رواں سال طلبہ سوسائٹیز کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے اور آئندہ سال اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
وائس چانسلر نے انفراسٹرکچر کی بہتری کے حوالے سے بتایا کہ علی مردان ہال کی ازسرنو تعمیر و تزئین کی جا رہی ہے اور اسے طالبات کے ہاسٹل میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ خواتین طلبہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مستقبل قریب میں پانچ نئے ہاسٹلز تعمیر کیے جائیں گے جن میں دو لاہور کیمپس اور باقی کالا شاہ کاکو کیمپس میں قائم کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تمام کیمپسز کے ہاسٹلز کو مرحلہ وار جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا۔ اسی طرح کھیلوں کی سہولیات میں بھی نمایاں بہتری لائی جا رہی ہے۔ تزئین و آرائش کے بعد یو ای ٹی کا سوئمنگ پول دوبارہ فعال ہونے جا رہا ہے جبکہ کھیلوں کے میدانوں کی بہتری اور فلڈ لائٹس کی تنصیب کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے بتایا کہ یونیورسٹی لائبریری کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اپ گریڈ کیا گیا ہے جبکہ لیکچر تھیٹرز کی تزئین و آرائش بھی جاری ہے۔ مستقبل کے منصوبوں میں ڈے کیئر سنٹر اور ہیلتھ سنٹر کی اپ گریڈیشن بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے گراؤنڈز اور لانز کی خوبصورتی میں اضافہ کیا گیا ہے، نئی بیٹھنے کی جگہیں بنائی گئی ہیں اور مجموعی ماحول کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ سیوریج سسٹم، گیس پائپ لائنز، چھتوں اور مختلف شعبہ جات میں فرش کی تبدیلی جیسے اہم ترقیاتی منصوبے بھی جاری ہیں۔
تعلیمی اور تحقیقی سہولیات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے لاہور اور کالا شاہ کاکو کیمپسز کی لیبارٹریوں کے لیے 600 نئے کمپیوٹرز خریدے جا رہے ہیں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ سابق طلبہ (ایلومنائی) یونیورسٹی کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں اور الیکٹریکل، سول، مکینیکل انجینئرنگ اور شعبۂ اسلامیات کے سابق طلبہ مختلف ترقیاتی منصوبوں میں قابلِ قدر معاونت فراہم کر چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مائننگ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو اسکے اپنے وسائل سے جدید بنایا جا رہا ہے جبکہ کیمیکل انجینئرنگ کے سیمینار ہال کو جدید ترین سہولتوں سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔
طلبہ سہولیات میں اضافے کے لیے یونیورسٹی نے حال ہی میں دو نئی بسیں اور ایک ایمبولینس خریدی ہے جبکہ موجودہ ٹرانسپورٹ نظام کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔
وائس چانسلر نے کہا کہ یو ای ٹی لاہور کی قومی اور بین الاقوامی شناخت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جامع ری برانڈنگ حکمت عملی پر کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے طلبہ میں کاروباری صلاحیتوں کے فروغ کے لیے قرضِ حسنہ اسکیم کے اجرا کا بھی اعلان کیا تاکہ طلبہ اپنے کاروبار اور اسٹارٹ اپس کا آغاز کر سکیں۔
تعلیمی معیار کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت یو ای ٹی میں 446 پی ایچ ڈی اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں اور یونیورسٹی پی ایچ ڈی فیکلٹی کا تناسب 75 فیصد تک بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی ٹیسٹنگ لیبارٹریز کو صنعت اور سرکاری اداروں کے لیے بھی کھول دیا گیا ہے اور ان خدمات سے رواں سال تقریباً 30 کروڑ روپے آمدن حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یو ای ٹی اکیڈمی کے قیام کے ذریعے مختصر دورانیے کے کورسز اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگرامز پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ طلبہ کی مہارتوں اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو سکے۔
ملازمت کے حوالے سے حوصلہ افزا اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ رواں برس یو ای ٹی کے تقریباً 90 فیصد گریجویٹس ڈگری مکمل کرنے کے چھ ماہ کے اندر روزگار حاصل کر چکے ہیں جبکہ دیگر 10 فیصد طلبہ اعلیٰ تعلیم یا بیرون ملک تعلیمی و پیشہ ورانہ مواقع حاصل کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں اضافے کے باوجود یونیورسٹی نے طلبہ پر مالی بوجھ کم رکھنے کے لیے ٹیوشن فیس میں اضافہ نہیں کیا بلکہ اس وقت یو ای ٹی میں 20 ہزار 300 سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں جبکہ تقریباً 7 ہزار طلبہ 80 کروڑ روپے مالیت کی مختلف اسکالرشپس سے مستفید ہو رہے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے مزید بتایا کہ ہر سیکشن کے پہلے تین ٹاپر طلبہ کو وظائف دیے جا رہے ہیں جبکہ بین الاقوامی طلبہ کو فیس میں خصوصی رعایت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنے ممالک میں یو ای ٹی کے سفیر کے طور پر کردار ادا کر سکیں۔
اجلاس کے اختتام پر سوال و جواب کی تفصیلی نشست منعقد ہوئی جس میں مختلف طلبہ سوسائٹیز کے صدور نے بین الجامعاتی مقابلوں میں شرکت، سفری سہولیات، سوسائٹی بجٹ، سرگرمیوں کے لیے مخصوص جگہوں، جیم سیشنز، انعامی نظام اور تنظیمی معاملات سے متعلق سوالات اور تجاویز پیش کیں۔ وائس چانسلر نے تمام امور پر تفصیلی جواب دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ انتظامیہ طلبہ کے مسائل کے حل اور ان کی مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
یہ اجلاس طلبہ شمولیت، شفاف طرزِ حکمرانی، تعلیمی و تحقیقی معیار میں بہتری اور کیمپس سہولیات کی مسلسل ترقی کے لیے یو ای ٹی لاہور کے عزم کا مظہر تھا۔

