لاہور (نیوز رپورٹر)
لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14 معصوم بچوں کی ہلاکت کے المناک واقعے پر وزیر تعلیم پنجاب اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آگیا ہے۔ دونوں حکام کی جانب سے واقعے کی نوعیت کے حوالے سے الگ الگ دعوے کیے جا رہے ہیں۔
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کی ہلاکت ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور وہ غمزدہ والدین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ وزیر تعلیم نے حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی اور بتایا کہ سی ای او ایجوکیشن موقع پر موجود ہیں۔
ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے واقعے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر کے ضلعی انتظامیہ کو ارسال کر دی ہے۔ رپورٹ کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
سی ای او ایجوکیشن طارق محمود کا اہم مؤقف:
سی ای او لاہور طارق محمود کا کہنا ہے کہ گھروں میں قائم ایسے نجی ٹیوشن سینٹرز محکمہ تعلیم کے دائرہ رجسٹریشن میں ہی نہیں آتے اور فی الحال ان کی رجسٹریشن کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ ضلعی انتظامیہ اب اس رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔
پشاور(ایجو کیشن رپورٹر) پی ایم ایس نتائج کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر، انگریزی…
لاہور(کرائم رپورٹر) صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سندر میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو سنگین…
ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری کراچی(سپیشل رپورٹر)سندھ کی…
مردان (ایجو کیشن رپورٹر) حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے جاری کردہ…
پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں ہونے والی بھرتیوں کے حوالے سے…
پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ابتر تعلیمی نظام، اساتذہ کی شدید کمی اور نئی داخلہ پالیسی…