(ایجو کیشن رپورٹر)لاہور
سرکاری اسکولوں سے اضافی وسائل پیدا کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے، جس کے تحت 14 تجاویز پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ اسکولوں کے موجودہ اثاثوں سے سالانہ 64 ارب روپے آمدن حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے سرکاری اسکولوں کو مالی طور پر خودمختار بنانے اور اضافی وسائل پیدا کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت سرکاری اسکولوں کے موجودہ اثاثوں سے سالانہ تقریباً 64 ارب روپے آمدن حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔ تاہم، اس مقصد کے حصول کے لیے بعض ذرائع کے مطابق 16 مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
غیر استعمال شدہ اثاثوں کو آمدن کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ
خیبر پختونخوا، 55 فیصد سرکاری اسکولوں کی دیواریں اور چھتیں غیر تسلی بخش قرار، سروے رپورٹ جاری
ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن اسکولوں کے غیر استعمال شدہ یا کم استعمال ہونے والے اثاثوں کو آمدن کا ذریعہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ تعلیمی اداروں کی مالی ضروریات اپنے ہی وسائل سے پوری کی جا سکیں۔
اہم تجاویز اور کمرشل سرگرمیاں
منصوبے کے تحت درج ذیل اہم اقدامات اور تجاویز زیرِ غور ہیں
برانڈنگ اور بل بورڈز: مرکزی شاہراہوں پر واقع اسکولوں کی بیرونی دیواروں پر برانڈنگ، ٹاورز، بل بورڈز اور دیگر کمرشل آئٹمز نصب کرنے کی اجازت دینے کی تجویز ہے۔ مارکیٹیں اور دکانیں: اسکولوں کی اضافی اراضی پر مارکیٹیں، دکانیں اور دیگر کمرشل سرگرمیاں شروع کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ٹیلی کام ٹاورز: ذرائع کے مطابق موبائل فون کمپنیوں کو اسکولوں میں ٹیلی کام ٹاورز نصب کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ سولر انرجی منصوبے: اسکولوں کی چھتوں اور خالی اراضی پر سولر انرجی منصوبے لگانے کی تجویز بھی اس پلان کا اہم حصہ ہے۔
پشاور(ایجو کیشن رپورٹر) پی ایم ایس نتائج کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر، انگریزی…
لاہور(کرائم رپورٹر) صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سندر میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو سنگین…
ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری کراچی(سپیشل رپورٹر)سندھ کی…
مردان (ایجو کیشن رپورٹر) حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے جاری کردہ…
پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں ہونے والی بھرتیوں کے حوالے سے…
پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ابتر تعلیمی نظام، اساتذہ کی شدید کمی اور نئی داخلہ پالیسی…