پنجاب یونیورسٹی، وی سی پر الزامات، مطالبات نہ ماننے پر تالہ بندی کی دھمکی

لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وائس چانسلر پر انتظامی، مالی، تعلیمی اور تحقیقی بحران پیدا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے فوری فرانزک آڈٹ، انتظامی اختیارات کی غیر ضروری مرکزیت ختم کرنے اور جامعاتی فورمز کو فعال بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق موجودہ انتظامیہ کے دور میں یونیورسٹی کے نظم و نسق، مالی معاملات اور تحقیقی ماحول کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ادارہ مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ اساتذہ کا کہنا تھا کہ 22 ماہ کے دوران سینٹ، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی، ڈینز کمیٹی اور دیگر اہم فورمز کے اجلاس نہ ہونے کے برابر رہے

جس سے فیصلے تاخیر کا شکار ہوئے اور تعلیمی، تحقیقی و انتظامی امور بڑی طرح متاثر ہوئے۔ گزشتہ روز پنجاب یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب میں پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر ڈاکٹر سردار اصغر اقبال، کنوینر پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد، چوہدری بشارت محمود، پروفیسر ڈاکٹر نایاب بتول، پروفیسر ڈاکٹر مقیت جاوید بھٹی، شفقت علی، مدثر عباس، طیب اعجاز سواتی، پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمان خان نیازی، ڈاکٹر ماجد علی، ڈاکٹر ابرار احمد ظفر، تنویر اعوان اور دیگر ممبران و اساتذہ کی کثیر تعداد موجود تھی۔

اس موقع پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کنوینر پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی کا بجٹ 2.57 ارب روپے خسارے کے ساتھ پیش کیا گیا جبکہ حقیقی خسارہ تقریباً 8 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی اور سنڈیکیٹ کی منظوری کے بغیر اخراجات کیے گئے اور “ون اکاؤنٹ پالیسی” کے تحت 786 ملین روپے مختلف شعبہ جات سے مرکزی سطح پر منتقل کیے اور بغیر اجازت استعمال کئے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلف سپورٹنگ پروگرامز بھی تاریخ میں پہلی بار 35 کروڑ روپے خسارے کا شکار ہوئے جبکہ مالی شفافیت کے دعوے بھی مشکوک ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کی عالمی درجہ بندی میں بھی نمایاں کمی آئی ہے اور QS رینکنگ میں ادارہ 542 سے 588 پر آ گیا ہے جو تشویشناک ہے۔ ریسرچ کے شعبے میں گرانٹس، انسنٹیوز اور پبلکیشن، لہو انکیشمنٹ، عید آنریریم، سپورٹ عملاً بند ہو چکی ہے جبکہ اساتذہ و ملازمین کو انکوائری کلچر کے ذریعے ہراساں کیا جا رہا ہے جس سے خوف کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے چیف منسٹر، چانسلر و گورنر پنجاب اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری فرانزک آڈٹ کرایا جائے، ڈاکٹر ریحان صادق شیخ کو عہدے سے ہٹایا جائے، رجسٹرار کی مستقل تعیناتی و دیگر اساتذہ پوزیشنز کیلئے اشتہار دیا جائے اور تمام جامعاتی فورمز کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔

پریس کانفرنس میں خبردار کیا گیا کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں احتجاج، وائٹ پیپر کے اجرا، علامتی تالہ بندی اور کلاسوں کے بائیکاٹ سمیت سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

سابقہ گولڈ میڈلسٹ امیدوار پی ایم ایس نتائج کے خلاف ہائیکورٹ پہنچ گئی

پشاور(ایجو کیشن رپورٹر) پی ایم ایس نتائج کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر، انگریزی…

11 گھنٹے ago

لاہور، سندر کے علاقے میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو دھمکیاں دینے اور توڑ پھوڑ کرنے والا ملزم گرفتار

لاہور(کرائم رپورٹر) صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سندر میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو سنگین…

12 گھنٹے ago

ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر مقرر

ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری کراچی(سپیشل رپورٹر)سندھ کی…

14 گھنٹے ago

پروفیسرحضرت علی چیرمین تعلیمی بورڈ مردان تعینات

مردان (ایجو کیشن رپورٹر) حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے جاری کردہ…

14 گھنٹے ago

پشاور، سرکاری جامعات میں بھرتیوں کی تحقیقات مکمل، رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال

پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں ہونے والی بھرتیوں کے حوالے سے…

14 گھنٹے ago

فرانس،طلبا کا احتجاج چھٹے روز میں داخل،1747گرفتار

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ابتر تعلیمی نظام، اساتذہ کی شدید کمی اور نئی داخلہ پالیسی…

15 گھنٹے ago