لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)فرانسیسی حکومت نے ملک بھر کے ہائی اسکولوں میں طلبہ کے موبائل فون استعمال کرنے پر مکمل پابندی کا اعلان کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ نفاذ نئے تعلیمی سال کے آغاز ستمبر سے ہوگا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی ہدایت پر نافذ کیے جانے والے اس قانون کا بنیادی مقصد طلبہ کو اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال سے بچانا اور ان کی ذہنی و تعلیمی نشوونما کے لیے ماحول کو بہتر بنانا ہے۔
دوسری جانب اسکول پرنسپلز کی یونین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فوری طور پر اس پابندی کا نفاذ دشوار ہو سکتا ہے کیونکہ اداروں کو ضروری تیاریاں مکمل کرنے کے لیے کافی وقت نہیں مل سکا۔ پابندی کو عمل میں لانے کے لیے اسکولوں کو اپنے داخلی قوانین میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی، جبکہ کچھ اداروں میں فون جمع کرنے کے لیے خصوصی لاکرز اور پاؤچز کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ تعلیمی ضرورت اور اسکول کے اہم امور کے پیشِ نظر مخصوص صورتوں میں موبائل فون کے استعمال کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
پشاور(ایجو کیشن رپورٹر) پی ایم ایس نتائج کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر، انگریزی…
لاہور(کرائم رپورٹر) صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سندر میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو سنگین…
ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری کراچی(سپیشل رپورٹر)سندھ کی…
مردان (ایجو کیشن رپورٹر) حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے جاری کردہ…
پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں ہونے والی بھرتیوں کے حوالے سے…
پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ابتر تعلیمی نظام، اساتذہ کی شدید کمی اور نئی داخلہ پالیسی…