ویانا (مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریا میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی 14 سال سے کم عمر بچیوں کے اسکولوں میں حجاب اور برقع پہننے پر قانوناً پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت ملک بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں روایتی مسلم طرز کے سر ڈھانپنے والے لباس پر مکمل پابندی ہوگی۔
قانون کے اہم نکات اور عمل درآمد کا طریقہ کار
مراحل وار بات چیت: اساتذہ اگر کسی طالبہ کو حجاب میں دیکھیں گے تو قانون پر عمل درآمد کے لیے طالبہ اور اس کے قانونی سرپرستوں سے مختلف مراحل میں بات چیت کی جائے گی۔
سنگین نتائج اور جرمانہ: خلاف ورزی جاری رہنے پر معاملے کی اطلاع چائلڈ ویلفیئر سروسز کو دی جائے گی، جبکہ آخری مرحلے میں سرپرستوں پر 800 یورو (تقریباً 685 پاؤنڈ) تک کا بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
حکومتی موقف: قدامت پسند آسٹرین پیپلز پارٹی، سوشل ڈیموکریٹس اور لبرل نیوس پر مشتمل حاکم اتحاد کے مطابق یہ اقدام صنفی مساوات اور کم عمر بچیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ وزیرِ انضمام کلاڈیا باؤر نے دعویٰ کیا ہے کہ حجاب بچیوں کو قابو میں رکھنے کا ذریعہ ہے۔
دوسری جانب ناقدین نے اس قانون کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے مسلم دشمن جذبات کو ہوا دینے کی کوشش قرار دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدام ملک کے آئین سے متصادم ہو سکتا ہے۔
پشاور(ایجو کیشن رپورٹر) پی ایم ایس نتائج کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر، انگریزی…
لاہور(کرائم رپورٹر) صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سندر میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو سنگین…
ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری کراچی(سپیشل رپورٹر)سندھ کی…
مردان (ایجو کیشن رپورٹر) حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے جاری کردہ…
پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں ہونے والی بھرتیوں کے حوالے سے…
پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ابتر تعلیمی نظام، اساتذہ کی شدید کمی اور نئی داخلہ پالیسی…