ایم ڈی کیٹ میں بے ضابطگیوں کی شکایات، پی ایم ڈی سی کو 15 روز میں تحقیقات کا حکم

کراچی(سپیشل رپورٹر) سندھ میں ایم ڈی کیٹ (2026ء کے امتحان کے انعقاد میں شفافیت اور منصفانہ طریقہ کار سے متعلق سنگین شکایات کے پیش نظر، وفاقی وزارتِ قومی صحت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو معاملے کی تفصیلی تحقیقات کرنے اور 15 روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی سخت ہدایت دی ہے۔

ذرائع کے مطابق، وفاقی وزارتِ صحت کے سیکشن افیسر (ایڈمن-V)، محمد اسحاق کی جانب سے 2 اکتوبر کو صدر پی ایم ڈی سی، رضوان تاج کو ارسال کیے گئے ایک باضابطہ مکتوب میں کہا گیا ہے

کہ میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر امتحان کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں اور متعدد شکایات سامنے آئی ہیں۔ مکتوب کے مطابق، عوامی نمائندوں نے بھی ان خدشات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تحقیقات کے لیے وفاقی وزارتِ صحت کی گائیڈ لائنز:

مکتوب میں پی ایم ڈی سی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امتحانی مراکز کی بنیاد پر نتائج کا باریک بینی سے تجزیہ کرے۔ اس تجزیے میں مندرجہ ذیل پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی جائے:

  • امیدواروں کی کل تعداد

  • کامیابی کی شرح (Percentage)

  • حاصل کردہ نمبر (Marks Obtained)

  • نمبروں کی تقسیم (Score Distribution) میں کسی غیر معمولی فرق یا تضاد کا جائزہ

اس کے علاوہ، امتحانی مراکز پر حاضری، نتائج کے مکمل ریکارڈ، نشستوں کی ترتیب (Seating arrangement) اور نگران عملے (Invigilation staff) کے ریکارڈ سمیت امتحانی انتظامات سے متعلق تمام ضروری دستاویزات کو محفوظ بنا کر ان کی جانچ پڑتال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سنگین الزامات کی جانچ:

وفاقی وزارتِ صحت نے پی ایم ڈی سی کو ہدایت کی ہے کہ وہ امتحان میں ہونے والی کسی بھی قسم کی بے ضابطگی، غیر مجاز مدد، جعل سازی، پرچے کے افشا ہونے (Paper leak)، فنی خرابی یا انتظامی غفلت سے متعلق تمام شکایات، دستیاب شواہد اور الزامات کا قانون کے مطابق جائزہ لے۔

وزارت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر امتحان کے انعقاد اور نتائج کی تیاری میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا خامی پائی گئی، تو اس کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔

پی ایم ڈی سی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اپنی مفصل رپورٹ 15 دن کے اندر وزارتِ قومی صحت کے سامنے پیش کرے۔

پسِ منظر:

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل آئی بی اے  سکھر کے وائس چانسلر نے ایم ڈی کیٹ امتحان کے انعقاد سے معذوری ظاہر کی تھی۔ انہوں نے امتحان کے انعقاد کے دوران مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مشورہ دیا تھا کہ امتحان کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے یہ ٹیسٹ کسی دوسرے ادارے کے ذریعے منعقد کرایا جائے۔

میڈیا میں اس معاملے کی رپورٹنگ کے بعد، پی ایم ڈی سی نے محکمہ صحت سندھ کو ایک خط ارسال کر کے اس معاملے کی وضاحت طلب کی تھی۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

پنجاب بھر میں میٹرک کے دوسرے سالانہ امتحانات کا آج سے آغاز

لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے زیرِ اہتمام میٹرک (دہم و…

2 گھنٹے ago

9تعلیمی بورڈز کے اربوں روپے کے فنڈز کی منتقلی کا معاملہ، حکومت کی مجوزہ ترمیمی سمری کی مذمت

لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) پنجاب بورڈز ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشنز کے نمائندگان کا اہم اجلاس…

3 گھنٹے ago

سوئمنگ پول میں ڈوبنےوالے طالب علم کے ساتھیوں کی جانب سےشفاف تحقیقات کا مطالبہ

لاہور (کرائم رپورٹر) علامہ اقبال میڈیکل کالج  لاہور کے تھرڈ ایئر ایم بی بی ایس کے…

3 گھنٹے ago

جناح کالج میں حسنِ قرات و نعت خوانی کے مقابلے، حسنِ قرآن میں عفرا نور اور نعت خوانی میں رابعہ شفیق کی پہلی پوزیشن

پشاور (یونیورسٹی رپورٹر)جناح کالج پشاور میں شعبہ اسلامیات کے زیرِ اہتمام حسنِ قرات اور نعت…

4 گھنٹے ago

یونیورسٹی لاڑکانہ کے طلبہ کی شجرکاری مہم،  شہر اور گردونواح میں 3000 پودے لگا دیے گئے

لاڑکانہ (ایجو کیشن رپورٹر) شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی  یونیورسٹی لاڑکانہ…

4 گھنٹے ago

یونیورسٹی آف سرگودھا میں طلباو طالبات کی سہولت کے لیے شٹل سروس کا آغاز

سرگودھا (خصوصی رپورٹر) وائسں چانسلر کی خصوصی ہدایت پر سفری سہولیات کی فراہمی اور آمدورفت…

6 گھنٹے ago