Categories: بریکنگ نیوز

پشاور میں افسوس ناک واقعہ سکول کی چھت گرنے سے 33 بچے دو ٹیچر ہلاک

پشاور (سپیشل رپورٹر)پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک دلخراش واقعے کے دوران نجی اسکول کی تین منزلہ عمارت کی چھت گرنے سے 34 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر سمیت 35 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 40 سے زائد ہے جنہیں فوری طور پر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ ان کے پاس 33 لاشیں لائی گئیں جبکہ 2 لاشیں نصیر اللہ بابر میموریل اسپتال لائی گئیں۔ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 7 سے 13 سال کے درمیان ہیں۔

پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی کارروائی

سی سی پی او پشاور میاں سعید کے مطابق نجی اسکول کے مالک اور پرنسپل کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور واقعے کی باضابطہ ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ضلعی انتظامیہ نے اسکول کی عمارت گرنے کی وجوہات کا پتا لگانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔

سرکاری ذرائع اور کے پی پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی:

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکول کی عمارت کا تکنیکی معائنہ نہیں کیا گیا تھا، اور خستہ عمارت ہونے کے باوجود یہ اسکول مارچ 2026 میں پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ ہوا تھا۔

ایم ڈی کے پی پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی جاوید اقبال نے بتایا کہ پی ایس آر اے کے پاس عمارتوں کا تکنیکی معائنہ کرنے والی ٹیم نہیں ہے، تاہم کلاس رومز اور انتظامی معیار پورا ہونے پر اسکول کی رجسٹریشن کی گئی تھی، اور ان کے پاس خستہ عمارتوں پر جرمانہ عائد کرنے کا اختیار تو ہے مگر اسکول بند کرنے کا نہیں۔

نمازِ جنازہ اور حکومتی احکامات

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دیر کالونی اسکول سانحے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی جس میں گورنر فیصل کریم کنڈی اور مشیرِ تعلیم عامر عبداللہ سمیت سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔

نجی اسکولوں کی عمارتوں کی انسپکشن کا فیصلہ

اس دلخراش واقعے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے نجی اسکولوں کی عمارتوں، ساخت، چھتوں، دیواروں اور بنیادوں کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔

اس مقصد کے لیے ضلعی سطح پر انکوائری کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں جن میں ضلعی مانیٹرنگ افسر، محکمہ تعلیم اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے نمائندے شامل ہیں۔ ان کمیٹیوں کو تین دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی کر کے حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

پشاور میں جاں بحق 16 بچوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

پشاور (اردو تعلیم) پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے…

7 گھنٹے ago

بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اتھارٹی بورڈ کا وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت گیارہواں اجلاس

کوئٹہ (ایجوکیشن رپورٹر) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن…

2 دن ago

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، پرانی سکیم طلبہ کےلئے ریسرچ پراجیکٹ جمع کرانے کی مہلت میں اضافہ

اسلام آباد(ایجوکیشن رپورٹر) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد کے شعبہ داخلہ نے سی او…

2 دن ago

لاہور کے سکولوں میں داخلہ مہم عدم دلچسپی کے باعث ناکامی سے دوچار

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)لاہور کے 111 سرکاری سکولوں میں جاری داخلہ مہم کے تحت بچوں کی…

2 دن ago

اقوام متحدہ ایگریکلچر آرگنائزیشن وفد کاویٹرنری یونیورسٹی لاہور کا دورہ

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) بنکاک سے اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن  کے مسٹر پیٹر بلیک…

2 دن ago

ایچ ای سی سکالرشپ پر بیرون ملک تعلیم کیلئے گئے 3 ڈاکٹروں کے واپس وطن نہ لوٹنے پر کاروائی کاحکم

کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں انکشاف سامنے آیا…

2 دن ago