لاہور(سپیشل رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی میں چند پروفیسرز پر مشتمل ٹھگوں کے ٹولے کے سربراہ دو سینئر پروفیسر معطل کردئیے گئے انکی یہ معطلی قائمہ کمیٹی کے حکم پر کی گئی ہے ان کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات پر قائمہ کمیٹی نے سخت فیصلہ کیا ہے
پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہائر ایجوکیشن نے پنجاب یونیورسٹی کے دو سینئر پروفیسرز، ڈاکٹر اظہر نعیم اور ڈاکٹر کامران عابد کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کے اس فیصلے کے فوری بعد وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ نے دونوں پروفیسرز کی معطلی کے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔
یہ کارروائی پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اس اجلاس میں عمل میں آئی جس کی صدارت ایم پی اے سمیرا سعید نے کی۔ یہ فیصلہ ایم پی اے راجہ شوکت بھٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک تحریک پر کیا گیا۔
دونوں پروفیسرز پر مندرجہ ذیل الزامات عائد کیے گئے ہیں
غیر قانونی بھرتیاں اور قواعد و ضوابط کے خلاف ترقیاں (خصوصاً 2014 کی ترقیاں)۔
مبینہ طور پر سنڈیکیٹ کے فیصلوں کو نظر انداز کرنا۔
پنجاب یونیورسٹی کے ہاؤسنگ پراجیکٹ ٹاون تھری میں مالی بے ضابطگیاں۔
انکوائری کی ہدایات: قائمہ کمیٹی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ دونوں پروفیسرز کے خلاف پیڈ ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز کیا جائے اور دو ہفتوں کے اندر اندر انکوائری مکمل کر کے ایک جامع رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے۔ یاد رہے کہ پنجاب یونیورسٹی ٹاون تھری پراجیکٹ جس کے اربوں روپے بقول اساتذہ کے ان سے ٹھگی مار کر اکھٹے کر کے اس ٹولے نے کھا لیے ہیں
اور اس کے بدلے 11 سال گزرنے پر متاثرین کو ایک مرلہ زمین دینے میں یہ ٹولہ ناکام رہا ہے اور اب موجودہ انتظامیہ کو مختلف حیلے بہانوں سے بلیک میل کر نے کی کوششوں میں لگا ہوا تھا کے خلاف پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے فیصلے پر یونیورسٹی اساتذہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے
یہ بھی یاد رہے کہ چونکہ یونیورسٹی میں چند پروفیسرز پر مشتمل یہ ٹھگوں کا ٹولہ ہے اس لیے انکا ساتھ یونیورسٹی کے دیگر معزز اساتذہ نہیں دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ انکی جانب سے کئی ہفتوں جاری رہنے والے احتجاج میں بھی اساتذہ کمیونٹی نے شرکت نہ کی جس پر ان چالاک اور شاطر اساتذہ نے احتجاج پر چار بندے اکھٹے کرنے کے لیے یونویرسٹی کلرکوں کا سہارا لیا اور انہیں استعمال کرتے رہے ہیں لیکن یہ ٹھگوں پر مشتمل ٹولہ اربوں روپے کے ٹاون تھری فراڈ کے باعث اساتذہ کی حمایت کھو بیٹھے ہیں
عدالتی حکم پر یونیورسٹی سینڈیکیٹ کے بار بار بلانے پر بھی کامران عابد وہاں مختلف بہانے کر کے پیش نہ ہوئے ہیں اور وہاں پیش ہونے کی بجائے یونیورسٹی انتظامیہ کو پریشرائز کرنے کے لیے کئی ہفتے مظاہرے کرتے رہے ہیں تاکہ اپنے خلاف ہونے والی انکوائریوں کو کسی طرح روکا جاسکے
پنجاب یونیورسٹی ٹاون تھری متاثرین نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اربوں روپے فراڈ میں ملوث اس سارے ٹولے کیخلاف کاروائی کی جائے اور ٹاون تھری کے پلاٹ انہیں دلائے جائیں
متعلقہ پروفیسرز اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مؤقف
دوسری جانب، معطل ہونے والے پروفیسرز اور پنجاب یونیورسٹی جائنٹ ایکشن کمیٹی نے قائمہ کمیٹی کے اس فیصلے اور کارروائی کو یکطرفہ قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ انتقامی کارروائی ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے انہیں بلاجواز نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
لاہور(ایجو کیشن رپورٹر) چیئرمین لاہور تعلیمی بورڈ پروفیسر ڈاکٹر بدرالسلام نے کنٹرولر امتحانات توصیف…
لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) پنجاب میں انٹر پارٹ ون کے امتحانی نتائج میں گزشتہ سال…
اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اعلیٰ تعلیم نے وفاقی اردو یونیورسٹی…
سندھ پبلک سروس کمیشن کا سی سی ای 2026 کا اسکریننگ ٹیسٹ ملتوی کراچی (سپیشل…
لاہور(سپیشل رپورٹر) پنجاب حکومت نے سیکرٹری سکول ایجوکیشن مدثر ریاض ملک کو تبدیل کر کے…
ملتان (ایجوکیشن رپورٹر) محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں شعبہ پیتھوبائیولوجی اینڈ بائیو میڈیکل سائنسز…