Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeبریکنگ نیوزچارسدہ میں جعلی ڈگریوں کی فروخت کا انکشاف

چارسدہ میں جعلی ڈگریوں کی فروخت کا انکشاف

خیبرپختونخوا تعلیمی نظام میں بڑا سکینڈل, ترقیوں کے لیے ایم ایس سی سٹیٹسٹکس کی ڈگریاں فروخت کیے جانے کا انکشاف

پشاور (خصوصی رپورٹر) خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک سنگین مالی و انتظامی سکینڈل سامنے آیا ہے جہاں اساتذہ کی ترقیوں کے حصول کے لیے مبینہ طور پر ایم ایس سی سٹیٹسٹکس کی جعلی ڈگریاں فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی نے اس حوالے سے محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کو ایک ہنگامی مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں چارسدہ کے نجی تعلیمی ادارے ‘آزاد اسلامیہ ڈگری کالج’ کے خلاف سنگین شکایات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ مراسلے کے مطابق مذکورہ ادارہ بعض افراد کو ایس ایس ٹی سے ایس ایس کے عہدوں پر ترقیاں دلوانے کے لیے غیر قانونی طور پر ڈگریاں فراہم کر رہا ہے۔

حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ ان ڈگریوں کے حامل کئی امیدواروں کا سٹیٹسٹکس یا اس سے متعلقہ مضامین میں کوئی تعلیمی پس منظر ہی نہیں، جس سے ان اسناد کی قانونی حیثیت اور شفافیت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ مزید برآں، یہ ڈگریاں گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان سے منسلک ظاہر کی جا رہی ہیں، جبکہ قواعد کی رو سے چارسدہ کے کالجز کو باضابطہ این او سی کے بغیر باچا خان یونیورسٹی کے علاوہ کسی دوسری جامعہ سے الحاق کی اجازت نہیں ہے۔

ریگولیٹری اتھارٹی نے انکشاف کیا ہے کہ مذکورہ کالج کو پہلے ہی 13 مارچ کو متعدد ضابطہ خلاف ورزیوں پر نوٹس جاری کیا جا چکا ہے۔ اتھارٹی نے معاملے کی فوری تحقیقات کی سفارش کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کے اجلاس سے قبل ان اسناد کی مکمل جانچ پڑتال یقینی بنائی جائے تاکہ میرٹ کا قتلِ عام روکا جا سکے۔