محکمہ تعلیم کے افسر کا غیر سنجیدہ رویہ اخلاقی گراوٹ کا ثبوت ہے، گریڈ 17 کے پوزیشن ہولڈر سے ایسے مجرا نما رقص کی توقع نہیں تھی: تعلیمی تنظیمیں
ڈیرہ اسماعیل خان (خصوصی رپورٹر) سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی رہائش گاہ پر عید ملن کے دوران محکمہ تعلیم کے افسر ڈاکٹر غلام ربانی سدوزئی کی جانب سے کیے جانے والے غیر مہذب رقص پر تعلیمی حلقوں، اساتذہ تنظیموں اور والدین کی طرف سے شدید تنقید اور غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اس عمل کو شعبہ تعلیم کے تقدس اور سرکاری افسران کے مروجہ ضابطہ اخلاق (Conduct Rules) کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
شعبہ تعلیم کے وقار کو خاک میں ملا دیا گیا
مختلف اساتذہ تنظیموں کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی نے اپنے مشترکہ ردعمل میں کہا ہے کہ اسکولز اور اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ میں کلیدی عہدے پر فائز افسر کا ایک سیاسی شخصیت کو خوش کرنے کے لیے اس طرح سرِعام ناچنا انتہائی شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا:
“تعلیمی اداروں کے سربراہان اور افسران طلبہ کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ اگر گریڈ 17 اور 18 کے افسران سیاسی ڈیروں پر جا کر اس طرح کے غیراخلاقی رقص کا مظاہرہ کریں گے، تو وہ معاشرے اور نئی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟”
سوشل میڈیا پر عوامی ردِعمل اور تنقید
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جہاں سوشل میڈیا پر اسے ایک مذاق بنا دیا گیا ہے، وہی سنجیدہ حلقوں نے اسے بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین کی سیاسی چاپلوسی کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری پروٹوکول اور عہدے کا تقاضا سنجیدگی ہوتا ہے، لیکن مذکورہ افسر نے سستی شہرت اور سیاسی وفاداری ثابت کرنے کے لیے محکمے کی عزت کو داؤ پر لگا دیا۔
سیکرٹری تعلیم سے فوری ایکشن کا مطالبہ
تعلیمی حلقوں نے سیکرٹری اسکولز اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ مذکورہ افسر کے خلاف سرکاری ملازمین کے تادیبی قوانین کے تحت انکوائری شروع کی جائے اور انہیں فوری طور پر عہدے سے معطل کیا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی سرکاری ملازم یا تعلیمی افسر اس طرح کی غیر سنجیدہ اور غیر پیشہ ورانہ حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکے۔

