لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور کے شعبہ تاریخ، فنون اور ثقافتی ورثہ کے زیرِ اہتمام بی ایف اے تھیسس نمائش 2026ء کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ گرافک ڈیزائن اور پینٹنگ پر مشتمل اس نمائش کا انعقاد بیک وقت یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس ٹاؤن شپ اور لوئر مال کیمپس میں کیا گیا۔
نمائش کا باقاعدہ افتتاح وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چودھری نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مختلف ڈسپلے کا تفصیلی معائنہ کیا اور فارغ التحصیل طلبہ کی جانب سے پیش کیے گئے اعلیٰ معیار کے فن پاروں کی بھرپور ستائش کی۔
جدید ٹیکنالوجی اور سماجی موضوعات پر مبنی 100 سے زائد فن پارے
تھیسس نمائش میں طلبہ کے تخلیقی اور تحقیقی نوعیت کے 100 سے زائد فن پارے پیش کیے گئے، جنہوں نے دیکھنے والوں کو اپنی فنی بصیرت، تکنیکی مہارت اور جدید ڈیزائننگ صلاحیتوں سے بے حد متاثر کیا۔ نمائش میں پیش کیے گئے منصوبے عصرِ حاضر کے درج ذیل اہم موضوعات کی عکاسی کرتے ہیں:
- ڈیجیٹل اور بصری آرٹ: ڈیجیٹل آرٹ ورک، السٹریشنز اور گرافک ڈیزائن۔
- جدید ٹیکنالوجی: مصنوعی ذہانت (AI) اور سائنسی ترقی کے منصوبے۔
- کارپوریٹ اور سماجی مہمات: برانڈنگ تصورات، بصری ابلاغی مہمات اور حقوقِ نسواں جیسے اہم سماجی و ثقافتی موضوعات۔

صنعتکاروں اور فنکاروں کی بڑی تعداد میں شرکت
اس باوقار تقریب میں ڈائریکٹر ڈویژن آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر احسن بشیر، ملک کے نامور صنعتکار، سرمایہ کار، فیکلٹی ممبران، طلبہ، نامور فنکاروں، ڈیزائنرز اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور طلبہ کے کام کو سراہا۔
وائس چانسلر کا اہم خطاب
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چودھری نے طلبہ کی محنت، لگن اور تخلیقی صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:
“یونیورسٹی آف ایجوکیشن معیاری تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ طلبہ میں جدت، فنی اظہار اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے فروغ کے لیے بھی بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ اس نوعیت کی نمائشیں طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار، پیشہ ورانہ دنیا (انڈسٹری) سے رابطے اور تخلیقی کام کے ذریعے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قیمتی مواقع فراہم کرتی ہیں۔”
مہمانوں کی جانب سے زبردست پذیرائی
نمائش کے دوران طلبہ نے مہمانوں کو اپنے فن پاروں کے پس منظر، تحقیقی عمل اور تخلیقی محرکات سے بھی آگاہ کیا۔ شرکاء نے نمائش میں پیش کیے گئے کام کے معیار، طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں، جدت پسندی اور پیشہ ورانہ اندازِ پیشکش کی بے حد تعریف کی۔

