وفاقی اردو یونیورسٹی کا بحران سنگین ترین: مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی ناکام، ایک طرف طلبہ و اساتذہ کا شدید احتجاج تو دوسری طرف وائس چانسلر کے حق میں “یومِ استحکام ریلی”
اساتذہ کا 26 ماہ کی ہاؤس سیلنگ کا مطالبہ، انتظامیہ کی 4 ماہ کی پیشکش مسترد؛ طلبہ الائنس کا ایڈمن بلاک پر مظاہرہ، چانسلر آصف زرداری سے مداخلت کی اپیل
کراچی (تعلیمی رپورٹر)
وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی میں جاری شدید مالی، تعلیمی اور انتظامی بحران انتہائی پیچیدہ صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ ایک طرف یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی بری طرح ناکام ہو گیا ہے جس کے باعث امتحانات کا بائیکاٹ بدستور جاری ہے، تو دوسری طرف کیمپس یکجا احتجاجی مظاہروں اور وائس چانسلر کے حق میں نکلنے والی یکجہتی ریلیوں کے باعث شدید انتظامی ہیجان کا شکار ہے۔
مذاکرات کا دوسرا مرحلہ: ڈیڈ لاک برقرار
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوسرے دور میں اساتذہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر انتظامیہ 26 ماہ کے واجب الادا ہاؤس سیلنگ کے بقایاجات ادا کر دے تو وہ امتحانات کے بائیکاٹ کے خاتمے کا اعلان کرنے کو تیار ہیں۔ اس کے برعکس، یونیورسٹی انتظامیہ نے شرط رکھی کہ وہ فی الحال صرف 4 ماہ کی ہاؤس سیلنگ ادا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ اساتذہ پہلے بائیکاٹ ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کریں۔ دونوں فریقین کے اپنے مؤقف پر ڈٹ جانے کے باعث یہ نشست بھی بے نتیجہ ختم ہو گئی۔
انجمن اساتذہ عبدالحق کیمپس اور گلشنِ اقبال کیمپس کے نمائندوں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مذاکرات کے دوران ان کا رویہ “آمرانہ” اور کسی “وائسرائے” جیسا ہے، جو بات چیت کے بجائے احکامات جاری کرتے ہیں۔ اساتذہ کے مطابق، وی سی اساتذہ کے نمائندوں سے نہ تو براہِ راست بات کرتے ہیں اور نہ ہی خود اپنی انتظامیہ کے ارکان کی آراء کو تسلیم کرتے ہیں، جس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ مذاکرات کو کامیاب بنانا ہی نہیں چاہتے۔
طلبہ الائنس کا ایڈمن بلاک پر دھاوا، ایک ہفتے کا الٹی میٹم
دوسری جانب، “وفاقی جامعہ اردو طلبہ الائنس” کے زیرِ اہتمام گلشنِ اقبال کیمپس کے مین ایڈمن بلاک کے سامنے ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ، پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن، اور آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سمیت مختلف طلبہ تنظیموں کے عہدیداران، سینکڑوں طلبہ و طالبات اور سابق طلبہ نے شرکت کی۔
مظاہرین نے اساتذہ کے حقوق کے تحفظ کو معیاری تعلیم کی ضمانت قرار دیتے ہوئے اساتذہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور انتظامیہ کو مسائل کے حل کے لیے ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیا۔ طلبہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ شیخ الجامعہ کی عدم دلچسپی، غیر سنجیدہ رویے اور ناقص انتظامی پالیسیوں کے باعث یونیورسٹی تاریخ کے بدترین بحران کا شکار ہو چکی ہے۔
وائس چانسلر کے حق میں بھی “یومِ استحکام ریلی”
کیمپس میں جاری اس شدید تناؤ کے دوران ایک بالکل مختلف منظر نامہ بھی دیکھنے میں آیا، جہاں یونیورسٹی میں ایک وسیع البنیاد “یومِ استحکام ریلی” کا انعقاد کیا گیا۔ اس ریلی میں اساتذہ، طلبہ، افسران اور ملازمین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور عالمی شہرت یافتہ سائنسدان اور ماہرِ تعلیم، شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا۔
ریلی کے شرکاء نے وائس چانسلر کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر یونیورسٹی کو مالی تنگی سے نکالنے کے لیے یکجہتی کے نعرے درج تھے۔
چانسلر آصف علی زرداری سے مداخلت کی اپیل
جامعہ اردو کے دونوں دھڑوں (مظاہرین اور ریلی کے شرکاء) نے ملک کی اس اہم وفاقی درسگاہ کو تباہی سے بچانے کے لیے صدرِ پاکستان اور جامعہ کے چانسلر آصف علی زرداری سے ہنگامی اپیل کی ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب تک چانسلر ہاؤس اس سنگین مالی و انتظامی ڈیڈ لاک کا نوٹس لے کر کوئی مستقل پیکیج جاری نہیں کرتا، تب تک جامعہ اردو میں تعلیمی جمود کا ٹوٹنا ناممکن نظر آتا ہے۔

