ویب ڈیسک
نئی دہلی: بھارت میں NEET-UG امتحان کے پیپر لیک اور بے قاعدگیوں کے خلاف نوجوانوں اور طلبا کی احتجاجی تحاریک بالآخر رنگ لے آئیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے مسلسل 36 روز سے جاری احتجاج کے بعد بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جسے وزیراعظم نریندر مودی نے فوری طور پر قبول کر لیا ہے۔
دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پر اپنے استعفے کا متن شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے تعلیم اور اصلاحات کے لیے وقف رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مئی 2026 میں منعقد ہونے والے NEET-UG کے امتحان میں بے قاعدگیوں کے فوراً بعد حکومت نے معالمے کی تحقیقات سی بی آئی (CBI) کے سپرد کی تھیں اور امتحان منسوخ کر کے نئی تاریخ کا اعلان کیا تھا۔
مستعفی وزیر تعلیم نے اپنے خط میں تحریر کیا:
“پچھلے 10 دنوں کے واقعات دیکھ کر میرا دل دکھی ہے۔ یہ میرے لیے ذاتی وقار کا مسئلہ نہیں، بھارت کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ جنتر منتر اور ملک کے دیگر حصوں کی صورتحال سے ملک دشمن قوتیں فائدہ اٹھائیں یا طلبہ کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں میں الجھے۔ اسی لیے میں اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش کر رہا ہوں۔”
‘ہم نے کر دکھایا’: کاکروچ جنتا پارٹی کا ردعمل
وزیر تعلیم کے استعفے پر کاکروچ جنتا پارٹی نے فتح کا اعلان کیا ہے۔ سی جے پی کے صدر ابھیجیت دیپکے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا:
“یہ کہتے تھے کہ اس سرکار میں استعفے نہیں ہوتے، لیکن دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا۔ ہم نے یہ کر دکھایا! یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر آپ ڈریں نہیں اور حکومت کے سامنے جھکیں نہیں تو جمہوریت میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔”
پارٹی ترجمان کے مطابق تمام باضابطہ مطالبات تحریری طور پر تسلیم کر لیے گئے ہیں جس کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تاہم، فتح کی خوشی میں اتوار کو ملک بھر میں پُرامن مشعل بردار مارچ کیا جائے گا۔
36 روز کی جدوجہد اور پولیس تشدد
خیال رہے کہ مئی 2026 میں پرچے لیک ہونے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی نے دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاجی تحریک شروع کی تھی، جس کے دوران نامور سماجی رہنما سونم وانگچک نے بھی 26 روز کی بھوک ہڑتال کی۔
20 جولائی کو جنتر منتر پر ہزاروں نوجوانوں کے جمع ہونے پر بھارتی پولیس نے شدید لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا جبکہ درجنوں مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبا کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی تھی۔ وزیراعظم مودی کی جانب سے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی پیشکش اور احتجاج ختم کرنے کی اپیل کو بھی نوجوانوں نے مسترد کر دیا تھا اور وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر قائم رہے، جس کے نتیجے میں بالآخر مودی سرکار کو جھکنا پڑا۔

