spot_img

ذات صلة

جمع

سی سی ای 2025 کے تحریری امتحان کے انتظامات مکمل، ایڈمٹ کارڈز ویب سائٹ پر اپ لوڈ

کراچی (سپیشل رپورٹر) سندھ پبلک سروس کمیشن  نے مشترکہ مسابقتی...

جی سی یونیورسٹی حیدرآباد میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کے موضوع پر کانفرنس

>حیدرآباد (ایجو کیشن رپورٹر) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد میں "شاہ...

پشاور یونیورسٹی کی 8 خواتین ایسوسی ایٹ پروفیسرز گریڈ 21 میں ترقی پا کر پروفیسر بن گئیں

پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) پشاور یونیورسٹی کی آٹھ خواتین ایسوسی...

بی آر ٹی تعمیرات سے جامعہ اردو کے راستے مسدود، طلبہ و اساتذہ کو شدید مشکلات کا سامنا

کراچی (سپیشل رپورٹر) یونیورسٹی روڈ پر بس ریپڈ ٹرانزٹ  منصوبے...

جی سی یونیورسٹی حیدرآباد میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کے موضوع پر کانفرنس

>حیدرآباد (ایجو کیشن رپورٹر) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد میں "شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری میں طبقاتی شعور اور جدید فکری ابلاغ” کے عنوان سے ایک باوقار کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا افتتاح وائس چانسلر ڈاکٹر معظم علی خان نے کیا، جبکہ صدارت کے فرائض سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری نے سرانجام دیے۔
شاہ لطیف کی شاعری انسانی جدوجہد کا وسیع فکری پس منظر پیش کرتی ہے: ڈاکٹر معظم افتتاحی خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر معظم علی خان نے کہا کہ جدید تحقیق کی روشنی میں شاہ لطیف کے فکر و فلسفے کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ بھٹائی کو تنقیدی شعور کے ساتھ پڑھیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ انہوں نے اپنی شاعری میں کن طبقات اور آوازوں کو اہمیت دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاہ لطیف کی شاعری انسانی جدوجہد کا وسیع فکری پس منظر پیش کرتی ہے، جبکہ سسی کی جدوجہد عزم اور منزل کے حصول، اور مارئی کی دھرتی، شناخت اور عزت سے وفاداری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ لطیف کا مطالعہ صرف ادب تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے سماجیات اور سیاست کے تناظر میں بھی پڑھنے کی ضرورت ہے۔

شاہ لطیف کا پیغام جنریشن زی کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے: ڈاکٹر فتح محمد مری صدرِ کانفرنس وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی ڈاکٹر فتح محمد مری نے کہا کہ شاہ لطیف کلاسیکی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ جدید دور کے بھی شاعر ہیں۔ ان کی شاعری کسی ایک طبقے یا دور تک محدود نہیں بلکہ آج کی "جنریشن زی” کے لیے بھی شاہ لطیف کے پیغام کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ان کا پیغام آج بھی اتنا ہی متعلقہ ہے جتنا اپنے دور میں تھا۔

مفکرین اور ادیبوں کے تاثرات کانفرنس سے معروف ادیب و دانشور تاج جویو، ڈاکٹر پھلو سنڈل مینگھواڑ، سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین و شاعر ڈاکٹر شیر مہراٹی، سندھیالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فیاض، ڈاکٹر احسان دانش، اور ڈاکٹر شازیہ پتافی سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی سندھ میں فکری بیداری کے علمبردار ہیں اور ان کا فکر آج بھی معاشرے کی رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہے۔ شاہ لطیف محنت کش طبقے کے شاعر تھے؛ انہوں نے لوہار، سوت کاتنے والوں، جولاہوں، موچیوں اور کسانوں کا ذکر کرتے ہوئے عام لوگوں کے حق میں آواز بلند کی۔ انہوں نے حکمرانوں اور جاگیرداروں کے رویوں کی مخالفت کی اور طبقاتی فرق ختم کرنے کا پیغام دیا۔<
اور روایتی تحائف کی پیشکش کانفرنس میں ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومنیٹیز پروفیسر ڈاکٹر مخدوم محمد روشن صدیقی، ڈاکٹر سید امیر علی شاہ، اساتذہ، محققین، ادیبوں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کو سندھی اجرک اور سووینئرز پیش کیے گئے۔

spot_imgspot_img