لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) پنجاب بورڈز ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشنز کے نمائندگان کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے ‘پنجاب بورڈز ایکٹ 1976ء’ میں کی جانے والی مجوزہ ترامیم اور تمام 9
تعلیمی بورڈز کے فنڈز کی منتقلی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے
بورڈز کی خود مختاری اور مالی خودمختاری
پریس ریلیز کے مطابق، پنجاب کے تمام بورڈز ‘انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ایکٹ 1976ء’ کے تحت خود مختار (Autonomous) ادارے ہیں، جو حکومت سے کسی قسم کی مالی گرانٹ یا امداد حاصل کیے بغیر اپنے ذاتی ذرائع اور آمدن سے اخراجات چلاتے ہیں۔ یہ بورڈز میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کا انعقاد، نتائج کی اشاعت، اور پنجاب کے لاکھوں طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کو سہولیات فراہم کرتے ہیں
مجوزہ ترمیم اور فنڈز کی منتقلی پر تحفظات
ایسوسی ایشنز کا کہنا ہے کہ موثق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومتِ پنجاب، بورڈز کے فاضل فنڈز کی منتقلی اور نتائج کی ری چیکنگکمپائلنگ کے حوالے سے بورڈز کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے پنجاب بورڈز کے اربوں روپے کے فنڈز کو منتقل کرنے اور بورڈز ایکٹ میں ترمیم کے لیے سمری تیار کی گئی ہے
ایسوسی ایشن کا ردِعمل
پنجاب بورڈز ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے اس مجوزہ ترمیم کو تعلیمی بورڈز کی خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف بورڈز کے ملازمین کی پینشن اور دیگر حقوق متاثر ہوں گے بلکہ امتحانی نظام میں بھی شدید دشواریاں پیش آئیں گی
اجلاس کے اختتام پر حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا گیا کہ بورڈز کی خود مختاری اور فنڈز سے متعلق ایسے تمام اقدامات کو فوراً روکا جائے