Urdu moral Story 53

غریب کسان اور لالچی حلوائی اُردو سبق آموز کہانی

کسی گاوں میں ایک کسان رہتا تھا۔ جو کہ بہت غریب تھا، وہ دن رات کھیتوں میں کام کر کے آپنا خاندان چلا رہا تھا۔ ایک دن کھیتوں میں کام زیادہ ہونے کی وجہ سے کسان بہت تھک گیا۔ وہ آرام کرنے کی غرض سے واپس گھر کی طرف آ رہا تھا۔ رستے میں اس نے ایک حلوائی کی دکان دیکھی، اسے وہاں سے مٹھائیوں کی بہت خوشبو آ رہی تھی۔

مٹھائیوں کی خوشبو سونگھ کے کسان کا دل کر رہا تھا کہ مٹھائی کھائے، لیکن اس کے پاس پیسے بہت کم تھے۔ خیر کسان نے سوچا کہ میں مٹھائی تو نہیں کھا سکتا، تو کیوں نا مٹھائیوں کی خوشبو سونگھ کر ہی دل بھر لیا جائے۔ وہ حلوائی کی دکان کے نزدیک ہو کے رک گیا، اور مٹھائیوں کی خوشبو سونگھنے لگا۔

حلوائی سے کسان کی خوشی دیکھی نا گئی۔ وہ آپنی جگہ سے آٹھا اور کسان کے پاس جا کے بولا، پیسے نکالو۔ حلوائی کی بات سن کے کسان پریشان ہوگیا، اور بولا کس چیز کے پیسے۔ میں نے مٹھائی تو کھائی نہیں، پھر پیسے کس لیے دوں۔

حلوائی مکاری سے بولا آپ نے میری مٹھائیوں کی خوشبو سونگھی ہے۔ خوشبوں سونگھنا کھانے کے برابر ہوتا ہے اس لیے مجھے پیسے دوں۔ کسان نے کہا کہ بھلا مٹھائی کی خوشبو سوبگھنا کھانے کے برابر کیسے ہو سکتا ہے۔ لیکن حلوائی پھر بھی پیسے لینے کےلیے تکرار کر رہا تھا

آخر کسان نے کچھ سوچ کر آپنی جیب میں ہاتھ ڈالا، اور کچھ سکے نکالے۔ کسان نے وہ سکے آپنے دونوں ہاتھوں کی مُٹھی میں بند کر کے ہلائے، اور وہاں سے جانے لگا۔ حلوائی نے کسان کو روکا اور کہا پیسے تو دیتے جاو۔ کسان نے کہا کہ میں نے آپ کو پیسوں کی آواز تو سنا دی ہے، پیسوں کی آواز سننا بھی پیسے لینے کے برابر ہوتا ہے۔

حلوائی حیرت سے بولا ، بھلا پیسوں کی آواز سننا پیسے لینے کے برابر کیسے ہو سکتا ہے۔ کسان نے حلوائی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا، جیسے مٹھائی کی خوشبو سونگھنا مٹھائی کھانے کے برابر ہوتا ہے۔ اور وہاں سے چلا گیا۔ حلوائی حیرت سے آپنی مکار آنکھوں سے کسان کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔

ہمیں اس کہانی سے کیا سبق ملتا ہے

عزیز دوستوں ہیمیں اس کہانی سے سبق ملتا ہے، کہ اس حلوائی جیسے لوگ ہمیں زندگی میں کہی نا کہی ضرور مل جاتے ہیں۔ لہزا ان سے آپنی عقل کا استعمال کر کے جان چھوڑانی چاہیے۔ اور کچھ بھی فیصلہ کرنے یا بات کرنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے۔ اس سے آپ کسی بھی مشکل سے باآسانی سے بچ سکتے ہو۔

یہ پوسٹ آپ کو کیسی لگی آپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں