لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومتِ پنجاب نے صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غیر مسلم طلبہ کے لیے علیحدہ مذہبی نصاب تیار کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک اتھارٹی (پیکٹا) نے تعلیمی سیشن 27-2026ء سے ان نئی مذہبی درسی کتب کے باقاعدہ نفاذ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، اس تاریخی اقدام کا مقصد مختلف اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ان کے اپنے عقائد اور مذہب کے مطابق تعلیم فراہم کرنا اور صوبے میں تعلیمی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔
مختلف مذاہب کے لیے منظور شدہ نصاب کی تفصیلات
پیکٹا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، صوبے بھر کے تعلیمی اداروں میں مختلف اقلیتی برادریوں کے لیے درج ذیل نصاب متعارف کروایا گیا ہے
- مسیحی برادری: مسیحی طلبہ کے لیے “مسیحی تعلیم” کا نصاب جماعت اول سے نہم (1st to 9th) اور گیارہویں جماعت (11th) تک پڑھایا جائے گا۔
- ہندو برادری: ہندو طلبہ کے لیے “سناتن دھرم” کی درسی کتب جماعت اول تا سوم (1st to 3rd) کے لیے منظور کی گئی ہیں۔
- سکھ برادری: سکھ طلبہ کے لیے “سکھ دھرم” کا نصاب جماعت اول تا سوم (1st to 3rd) میں متعارف کروایا گیا ہے۔
- کلاشا برادری: وادیِ چترال کی منفرد کلاشا ثقافت کے تحفظ اور ترویج کے لیے پہلی بار “کلاشا تعلیم” کی درسی کتب شامل کی گئی ہیں۔
- بدھ مت: بدھ مت سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے “بدھ مت” کی کتب جماعت اول تا سوم (1st to 3rd) کے لیے منظور کی گئی ہیں۔
- زرتشتی برادری (پارسی): زرتشتی طلبہ کے لیے “زرتشتیت” کا نصاب جماعت اول تا پنجم (1st to 5th) تک منظور کیا گیا ہے۔
نفاذ اور اطلاق
پیکٹا حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے اور یکساں تعلیمی پالیسی کے تحت منظور شدہ نصاب کا باقاعدہ اطلاق تعلیمی سیشن 27-2026ء اور اس کے بعد کے تمام تعلیمی سالوں سے ہوگا۔ اس سلسلے میں جاری کردہ نوٹیفکیشن پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز ، ضلعی تعلیمی حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کو باقاعدہ کارروائی اور عملدرآمد کے لیے ارسال کر دیا گیا ہے۔

