اہم ترین

سندھ یوتھ اپرچونٹی فیسٹیول کا 17 ستمبر سے لاڑکانہ میں انعقاد

لاڑکانہ (خصوصی رپورٹر) سندھ کے نوجوانوں کو کھیلوں، تعلیم، جدید...

جامعہ سیالکوٹ میں شعبہ اردو کے زیرِ اہتمام ‘اوپن ہاؤس 2026’ کا پروقار انعقاد

سیالکوٹ (خصوصی رپورٹر) یونیورسٹی آف سیالکوٹ کے شعبہ اردو کے...

خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیاں تعلیمی و تحقیقی میدان میں اعلی مقام حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ ایچ ای سی رپورٹ میں انکشاف

پشاور (نیوز رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مالی سال 25-2024 کی سالانہ جائزہ رپورٹ نے خیبر پختونخوا کی جامعات کی کارکردگی پر اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ملک بھر کی 95 جامعات کے جائزے میں صوبے کی کوئی بھی جامعہ اعلیٰ ترین درجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی، جبکہ متعدد جامعات درمیانی یا کمزور کارکردگی کے درجے میں شامل رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ملک بھر کی صرف 7 جامعات نے اعلیٰ ترین ‘درجہ ڈبلیو’ حاصل کیا ہے، جبکہ 38 جامعات ‘درجہ ایکس’ اور 43 جامعات ‘درجہ وائی’ میں رہیں، اور 7 جامعات کو کمزور کارکردگی کا حامل قرار دیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کی جامعات کی درجہ بندی:

رپورٹ میں خیبر پختونخوا کی جامعات کی درجہ بندی درج ذیل رہی

  • درمیانی کارکردگی (درجہ وائی): اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، اور جامعہ پشاور۔
  • کمزور کارکردگی: باچا خان یونیورسٹی چارسدہ، شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور، اور یونیورسٹی آف سوات۔

درجہ بندی کا معیار اور تشویشناک صورتحال

ذرائع کے مطابق یہ جائزہ صرف تدریسی معیار تک محدود نہیں ہے، بلکہ جامعات میں تحقیق، نئے منصوبوں، صنعتوں کے ساتھ روابط، اختراعات، تحقیقی منصوبوں اور علمی پیداوار کو جانچتا ہے۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ صوبے کی صرف تین جامعات درمیانی درجے تک محدود رہیں، جبکہ تین جامعات کمزور کارکردگی کی فہرست میں شامل ہو گئیں۔

ملک بھر کی جامعات کی مجموعی صورتحال (ایک نظر میں)

کارکردگی کا درجہجامعات کی تعدادخیبر پختونخوا کی جامعات کی صورتحال
اعلیٰ ترین (درجہ ڈبلیو)07صوبے کی کوئی بھی یونیورسٹی شامل نہیں ہو سکی
بہتر (درجہ ایکس)38
درمیانی (درجہ وائی)43اسلامیہ کالج پشاور، عبدالولی خان یونیورسٹی، جامعہ پشاور
کمزور کارکردگی07باچا خان یونیورسٹی، شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف سوات