اہم ترین

لاہور بورڈ انٹرمیڈیٹ نتائج 2026، مبشرہ اور سید محمد محی الدین 1158 نمبرز کے ساتھ باہم ٹاپر قرار

لاہور (ایجو کیشن رپرٹر) بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن...

پی این سی اے کا طلبہ کے لیے قائد اعظم کے پورٹریٹ مقابلے کا اعلان

اسلام آباد (ایجو کیشن رپورٹر) پاکستان نیشنل کونسل آف دی...

سندھ پائیدار سکول کھانا پروگرام، 5 اضلاع کے 1336 سکولوں کے ڈھائی لاکھ طلباء مستفید ہوں گے

کراچی (اسپیشل رپورٹر) وزیرِاعلیٰ سندھ سے اقوامِ متحدہ کے عالمی...

پیما کے 4300 لائسنسی سکول دو ماہ کے معاوضوں سے محروم، 20 ہزار اساتذہ اور 6 لاکھ طلباء شدید متاثر

لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے ذیلی...

داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے درمیان معاہدہ

کراچی ( سپیشل رپورٹر) داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے ساتھ ایک اہم سمجھوتے کی یادداشت  پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس شراکت داری کا بنیادی مقصد جامعات اور صنعت کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا، تحقیق و جدت کو فروغ دینا اور پاکستان کے میری ٹائم ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کی معاونت کرنا ہے۔

داؤد یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں منعقدہ تقریب کے دوران وائس چانسلر داؤد یونیورسٹی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر ثمرین حسین (ستارۂ امتیاز، تمغۂ امتیاز) اور پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف کموڈور اشفاق اختر (ستارۂ امتیاز ملٹری) نے معاہدے پر دستخط کیے۔

ایمرسن یونیورسٹی کے وی سی پر ہراساں کرنے کے الزامات، صوبائی محتسب نے سماعت کے لیے تاریخ مقرر کر دی

معاہدے کی اہم خصوصیات و مقاصد

تعاون کے شعبے
دونوں ادارے تحقیق و جدت، ٹیکنالوجی کمرشلائزیشن، طلبہ و فیکلٹی کی شمولیت، انٹرن شپ، صنعتی روابط اور استعدادِ کار میں اضافے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

بلیو اکانومی کی ترقی
اس شراکت داری کے تحت مشترکہ منصوبوں کے ذریعے پاکستان کے میری ٹائم شعبے اور ‘بلیو اکانومی’ کے لیے جدید و مؤثر حل تیار کرنے میں مدد ملے گی۔

تقریب کے دوران داؤد یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران نے انڈر واٹر وائرلیس سنسر نیٹ ورکس، مصنوعی ذہانت (AI)، خودکار نظام، پائیدار مواد، قابلِ تجدید توانائی اور ویسٹ ٹو ریسورس ٹیکنالوجیز پر جاری تحقیقاتی منصوبوں کے بارے میں پریزنٹیشنز پیش کیں۔

کموڈور اشفاق اختر نے اپنے خطاب میں داؤد یونیورسٹی کے تحقیقی اقدامات کی تعریف کی اور جامعات و قومی ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔