اہم ترین

پاکپتن, اینٹی کرپشن کی ریڈ، 40 ہزار رشوت لیتے محکمہ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

پاکپتن(نامہ نگار) اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے محکمہ...

اردو یونیورسٹی کی زبوں حالی، ایچ ای سی کی اعلیٰ کمیٹی کی موجودہ قیادت تبدیل کرنے کی سفارشز

 اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن  کی اعلیٰ سطح...

دنیا بھر میں 2025 کے دوران سکولوں پر حملوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا، یونیسکو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو...

سرحد یونیورسٹی ،طلبہ پر تشدد اور ہوائی فائرنگ کرنے والے فوجی افسر کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی شروع

اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر) وفاقی دارالحکومت میں واقع سرحد یونیورسٹی (اسلام آباد کیمپس) میں فیسوں میں توسیع کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ پر تشدد اور ہوائی فائرنگ کرنے والے لیفٹیننٹ کرنل رینک کے آرمی افسر کے خلاف قانونی اور عسکری کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سرحد یونیورسٹی کے طلبہ شعبۂ ایچ آر کی ڈائریکٹر کے رویے اور فیسوں کی ادائیگی کی تاریخ میں توسیع کے سلسلے میں احتجاج کر رہے تھے کہ اس دوران یونیورسٹی کی خاتون ملازم کے شوہر، جو کہ فوج میں لیفٹیننٹ کرنل ہیں، چھڑی کے ساتھ وہاں پہنچے۔ انہوں نے طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد ہاتھا پائی شروع ہو گئی اور ملزم افسر نے ہوائی فائرنگ کر دی۔

واقعے کے بعد اشتعال میں آئے طلبہ نے جی ٹی روڈ بلاک کر کے شدید احتجاج کیا۔ اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) حمزہ ہمایوں نے مظاہرین سے مذاکرات کر کے ٹریفک بحال کروائی اور قانونی کارروائی کا یقین دلایا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی موجودگی میں قانون ہاتھ میں لینے والے مذکورہ آرمی افسر کو حفاظتی تحویل میں لے کر اعلیٰ عسکری حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں ان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت سمری کورٹ مارشل کا ٹرائل شروع ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ دوسری جانب عسکری ذرائع کے مطابق فوج کی اعلیٰ قیادت نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی متعلقہ تھانے میں قانونی درخواست جمع کروا دی ہے۔