اہم ترین

پاکپتن, اینٹی کرپشن کی ریڈ، 40 ہزار رشوت لیتے محکمہ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

پاکپتن(نامہ نگار) اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے محکمہ...

اردو یونیورسٹی کی زبوں حالی، ایچ ای سی کی اعلیٰ کمیٹی کی موجودہ قیادت تبدیل کرنے کی سفارشز

 اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن  کی اعلیٰ سطح...

دنیا بھر میں 2025 کے دوران سکولوں پر حملوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا، یونیسکو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو...

ضلع خیبر، لنڈی کوتل میں 36 سال کے دوران کوئی ایک سکول بھی اپ گریڈ نہ ہو سکا

لنڈی کوتل (نیوز ڈیسک) ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں سرکاری تعلیمی ادارے شدید انتظامی و تدریسی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ 1990ء کے بعد سے علاقے کا ایک بھی سرکاری اسکول اپ گریڈ نہیں کیا جا سکا، جس کی وجہ سے تعلیمی سہولیات کی ضروریات اور موجودہ اسکولوں کی گنجائش کے درمیان فرق خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔

تدریسی عملے اور سہولیات کی شدید کمی:

  • اساتذہ کی قلیت: ذرائع کے مطابق متعدد پرائمری اسکولوں کا پورا نظام صرف دو اساتذہ کے رحم و کرم پر چل رہا ہے۔

  • بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی: اساتذہ کی کمی کے ساتھ ساتھ اسکولوں میں کلاس رومز، فرنیچر اور دیگر ضروری سہولیات بھی شدید ناکافی ہیں۔

  • تعلیمی نقصان: تدریسی عملہ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے طلباء کو مناسب تعلیمی وقت نہیں مل پا رہا اور ان کا قیمتی مستقبل ضائع ہو رہا ہے۔

علاقہ مکینوں کا حکام سے مطالبہ: علاقہ مکینوں نے متعلقہ تعلیمی حکام اور صوبائی حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

  • لنڈی کوتل کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اور تدریسی عملے کی کمی فوری دور کی جائے۔

  • تمام اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

  • آبادی اور ضروریات کے تناسب سے اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔