اہم ترین

جامعہ کراچی کے پروفیسر تشدد کیس میں پیشرفت، فریقین میں صلح

کراچی (ایجو کیشن رپورٹر) جامعہ کراچی کے شعبہ علومِ اسلامیہ...

ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ امتحان کا انعقاد مکمل، امیدواروں کو ‘Answer Key’ کا انتظار

کراچی (سپیشل رپورٹر) کراچی سمیت ملک بھر میں میڈیکل اینڈ...

اسلامی جمعیت طلبہ نے ”حقوق طلبہ تحریک“ کا آغاز کردیا

لاہور/اسلام آباد(ایجو کیشن رپورٹر)ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان...

 ایم ڈی کیٹ میں نمبرز بڑھوانے کا جھانسہ دینے والا جعل ساز گروہ گرفتار

مردان (سپیشل رپورٹر) وفاقی تحقیقاتی ادارے مردان نے ایک بڑی...

سندھ میں 838 نئے و ازسرنو تعمیر شدہ سکولوں میں داخلہ مہم شروع کرنے کا حکم

کراچی (سپیشل رپورٹر) حکومتِ سندھ نے صوبے میں تعلیمی انقلاب...

لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، منظوری کے بغیر ڈگری پروگرامز کے داخلہ فارم فروخت، ہزاروں طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور آئی ٹی سمیت اہم ڈسپلنز کو پروفیشنل کونسلز سے منظوری نہ مل سکی؛ میرٹ لسٹیں روک دی گئیں، انتظامیہ کی فارم دوسرے شعبوں میں منتقل کرنے کی ہدایت

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں مختلف ڈگری پروگرامز کے لیے داخلہ فارم فروخت کیے جانے کے باوجود متعلقہ پروگرامز کی تاحال منظوری نہ ملنے کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے باعث ہزاروں طالبات کا تعلیمی مستقبل شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کے پاس آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) سمیت بعض دیگر اہم ڈگری پروگرامز کی باقاعدہ منظوری موجود نہیں تھی اور ان پروگرامز کو وفاقی کونسلز برائے پروفیشنل ڈگری ایجوکیشن سے بھی این او سی نہیں مل سکا تھا۔ مطلوبہ ایس او پیز مکمل نہ ہونے کی وجہ سے منظوری کے عمل میں رکاوٹ آئی، لیکن اس کے باوجود یونیورسٹی کی جانب سے فرسٹ ایئر کے نتائج کی بنیاد پر چار مختلف ڈسپلنز کے داخلہ فارم دڑا دڑ فروخت کیے گئے۔

ہزاروں کی تعداد میں فارمز فروخت ہونے اور طالبات کی جانب سے جمع کروائے جانے کے بعد اب ان پروگرامز کی میرٹ لسٹیں جاری نہیں کی گئیں، جس سے طالبات اور ان کے والدین میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے طالبات کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے داخلہ فارم دیگر فعال شعبوں میں منتقل کروا لیں۔ انتظامیہ کی اس غیر ذمہ دارانہ پالیسی پر طالبات اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔